جی ایچ کیو حملہ کیس ،عمران خان کے وکلا اور پراسیکیوٹر کے مابین تلخ کلامی
شیئر کریں
ویڈیو لنک واٹس ایپ ٹرائل غیر منصفانہ ، ملزم اپنے وکیل کو دیکھ سکتا ہے اور نہ گواہ کو،وکیل فیصل ملک
کیس کا ٹرائل نہیں روکا جا سکتا، وکلائصفائی کے ٹرائل نہ چلنے دینے کے بیان پر پراسیکیوٹر کا جواب
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کے سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کے وکلا کی جانب سے ٹرائل روکنے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی ۔دوران سماعت فریقین کے دلائل کے دوران عدالت میں گرما گرمی کی صورت حال پیدا ہوئی اور وکلائے صفائی و پراسیکیوشن ٹیم کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔دوران سماعت وکیل فیصل ملک نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان گزشتہ 2 سماعتوں میں نہ کسی گواہ کو دیکھ سکے اور نہ اپنے وکیل کو سن سکے ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے انہوں نے بتایا کہ عدالت کی اجازت سے سابق وزیراعظم سے جیل میں ملاقات ہوئی، عمران خان نے کہا کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ عدالت میں کیا ہورہا ہے؟۔فیصل ملک نے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے کہ ٹرائل کی منتقلی سے متعلق نوٹیفکیشن پر ہائی کورٹ کے فیصلے تک ٹرائل روکا جائے ہم بائیکاٹ کی بات نہیں کررہے، ہمارا مطالبہ ہے ملزم کہاں ہے؟ ہم نے ٹرائل روکنے کی درخواست عمران خان کی ہدایات پر دائر کی ہے درخواست پر ان کا سینئر پینل دلائل دے گا وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف کے بانی چیٔرمین کو ٹرائل میں لے آئیں ہم تعاون کے لیے تیار ہیں عمران خان نے کہا ہے کہ ہر سماعت سے قبل ان کے وکلا ان سے مشاورت کریں ملزم کا کہنا ہے اس کا حق ہے کہ وہ گواہ کو سن سکے۔عمران خان کے وکیل ملک وحید انجم نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا لیڈ کونسل میں ہوں سلمان اکرم راجہ کی ہدایت پر گواہوں پر جرح سے کروں گا پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے سماعت کے دوران کہا کہ ہم اب بھی وکلائے صفائی کی درخواست پر دلائل کے لیے تیار ہیں ملزم نے 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی کہ ان کے مقدمات میں حاضری وڈیو لنک پر کی جائے ملزم لاہور کے مقدمات میں وڈیو لنک حاضری کے خلاف ہائی کورٹ گیا تھا لاہور ہائی کورٹ بھی وڈیو لنک ٹرائل کی اجازت دے چکی ہے۔


