جمعیت علماء اسلام ، بدامنی، ڈاکوراج کے خلاف 31 جولائی سے احتجاجی تحریک کا اعلان
شیئر کریں
سندھ میں علمائے کرام کا اغوا، سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہے تجارت اور زراعت تباہ ہیں، مولانا عبدالقیوم
علماء کو بازیاب نہ کروایا گیا تو وزیر اعلیٰ ہاوس کا گھیراؤ کریں گے ،عوام، کارکنان، کاروباری حضرات، سے اپیل
سندھ میں علمائے کرام کے اغوا، بڑھتی ہوئی بدامنی اور ڈاکو راج کے خلاف جے یو آئی سندھ کی جانب سے 31 جولائی سے جیکب آباد سے بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ ہاؤس سندھ کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام سندھ کے امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے کہا ہے کہ سندھ میں لاقانونیت، ڈاکو راج، اسٹریٹ کرائم اور علمائے کرام کے اغوا نے صوبے کو مکمل طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے جبکہ حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے انہوں نے جیکب آباد، شکارپور اور کشمور کندھکوٹ سے جے یو آئی کے رہنماؤں اور علمائے کرام کے اغوا، زنجیروں میں جکڑ کر تشدد کی ویڈیوز سامنے آنے پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے عوام دہشت گردی اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ تجارت اور زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مولانا ہالیجوی نے اعلان کیا کہ 31 جولائی سے جیکب آباد سے شروع ہونے والی تحریک ایک بڑے احتجاجی سلسلے کا آغاز ہوگی، اس کے بعد شکارپور اور کندھکوٹ میں بڑے مظاہرے ہونگے جس کا دائرہ کار پورے سندھ تک بڑھایا جائے گا اگر علمائے کرام اور دیگر مغوی افراد کو فوری طور پر بازیاب نہ کرایا گیا اور بدامنی پر قابو نہ پایا گیا تو جے یو آئی سندھ جلد وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کے گھیراؤ کا اعلان کرے گی جے یو آئی سندھ کی قیادت نے عوام، کارکنان، کاروباری حضرات، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے تمام طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس احتجاجی تحریک میں بھرپور شرکت کریں تاکہ سندھ کو ڈاکوؤں کے چنگل سے نجات دلائی جاسکے۔


