قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات
شیئر کریں
حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحیم
مشرق وسطیٰ میں جنگ ،پاکستان کوجو ایل این جی( مائع قدرتی گیس) پر انحصار کرتاہے،مجبور کر رہی ہے کہ وہ بجلی پیدا کرنے میں ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی ایل این جی کو مہنگے داموں اسپاٹ مارکیٹ سے خریدے۔پاکستان اپنی بجلی کا ایک تہائی یا اس سے زائد قدرتی گیس سے پیدا کرتا ہے۔ممکنہ قلت کودور کرنے کیلئے پاکستان ریکارڈ قیمت پر خریدنے پر مجبور ہے اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اسے مجبور کر رہا ہے کہ وہ کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں کے طرف رجوع کرے۔ ریسرچ گروپ زیرو کاربن اینیلسٹکس کی تجزیہ نگار ایمی کانگ کا کہنا ہے کہ پاکستان جنگ کی مدت کے دوران مہنگی گیس کی جگہ عارضی طور پر کوئلہ کا استعمال کرے۔اس کا کہنا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے نتیجہ میں2021 اور2024 کے درمیان پاکستان نے شمسی توانائی کی اپنی استعداد کو تین گنا کر دیا۔چین کے کم لاگت کے سولر پینلز نے پاکستان کو ایل این جی درآمدات پر اپنے انحصار کم کرنے میں مدد دی۔ جبکہ ملک کو توانائی میں اہم رکاوٹ سے نمٹنا پڑ رہا ہے مثلاً گیس کے منقطع ہونے سے کھاد تیار کرنے والے پلانٹ ۔ پاکستان کی تجدید نوrenewables) (کی طرف منتقلی بڑے عدم استحکام سے اس کا بچائو کررہی ہے۔
ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا
ایک اسرائیلی تجزیہ نگار اور سابق انٹیلی جنس آفیسر مائیکل ملسٹین نے ییدی یوتھ اہرونوٹ میں لکھا ہے کہ عوام کے سامنے ایک مبالغہ آمیز تصویر پیش کی گئی ہے جس کے مطابق حزب اللہ کا تقریباً خاتمہ کر دیا گیا ہے۔حماس کو مٹا دیا گیا ہے اور عرب دنیا اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔مائیکل ملسٹین نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ حقیقت بتانے کی بجائے اسرائیل نے تصوراتی دنیا پیش کی ،خاص طور پر7 اکتوبر2023 کو حملوں کے بعد سے۔ اس کا نتیجہ سرکاری انکوائری میں نہیں نکلا کہ کن غلطیوں کی بناء پر حماس غزہ کے نزدیک 1200 سے زائد اسرائیلیوں کوہلاک کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے نتیجہ میں جنگ کے دوران70000 سے زائدغزہ کے باشندے ہلاک ہو گئے اور پورا علاقہ کنکروں کا ڈھیر بن گیا۔مائیکل ملسٹین کا کہنا ہے کہ حماس کو اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جاسکا ہے۔ میں در حقیقت ان من گھڑت خیالات کو پسند نہیں کرتا کہ ہم مشرق وسطیٰ کا نقشہ دوبارہ ترتیب دیں گے اور ہم لوگوں کے ذہن اور قلوب کو تبدیل کردیں گے۔اس کا کہنا ہے کہ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔
ٹیکنالوجی اور نظریہ کے دمیان جنگ
عراق کے سابق وزیر خارجہ اور سابق نائب وزیر اعظم ہوشیار زبیری کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل سے خطے میں ایک دور کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن اس کا مطلب ایران کی مذہبی اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ نہیں ہے۔وہ مزاحمت کر رہے ہیں۔یہ ٹیکنالوجی اور نظریہ کے دمیان جنگ ہے۔ان میں جلد بحال ہونے کی اہلیت ہے۔ایرانیوں کو نچوڑ دیا گیا ہے اور صورتحال ان کیلئے مشکل ہے لیکن ان کیلئے یہ ہونے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔
امریکہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کیوں نہیں کھول سکا
گزشتہ ہفتہ اوول آفس میں ایک اجلاس میں مایوس ٹرمپ نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئر مین جنرل ڈان کین سے پوچھا کہ امریکہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کیوں نہیں کھول سکا ۔ جواب سیدھا سادہ تھا۔ ایک ایرانی سپاہی یا ملیشیا کا کوئی رکن آبنائے ہرمز کے سرے پرایک اسپیڈ بوٹ میںتیزی کے ساتھ حرکت کرکے ایک متحرک میزائل آہستہ سے حرکت کرنے والے ایک سپر ٹینکر کے اندر فائر کر سکتا ہے اور اس کے ڈھانچہ میں چپک جانے والی ایک بارودی سرنگ بچھا سکتا ہے۔
توانائی کے ذرائع میں تنوع ضروری
بنگلہ دیش کی فیکٹریوں کی جلد بحال ہونے کی اہلیت کو ایک اور امتحان کا سامناہے۔بنگلہ دیش گارمنٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ایک سابق ڈائریکٹرمحی الدین روبل جس کی اپنی کئی فیکٹریاں ہیں، نے ملک پرالزام لگایا کہ اس کاایک ہی چیز میںیکسوئی کا رجحان ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی کسی ایک چیز کے کرنے میں بہت اچھے ہیں۔ ہم متنوع نہیں ہیں۔ ہم کئی متبادل راہیں اختیارنہیں کرتے۔ یہی بات اس کے پاور گرڈ پر صادق آتی ہے جوتجدید نو توانائی کا بہت کم استعمال کرتا ہے۔
ڈھاکہ میںانسٹی ٹیوٹ برائے انرجی اکانومکس اینڈ فنانشل انیلسز کے ایک تجزیہ کار شفیق العالم کا کہنا ہے کہ وہ فیکٹریوں چلانے کیلئے گیس کی کمی کے بارے میں بہت پریشان ہے۔ بنگلہ دیش کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ اور بلیک آئوٹس کا استعمال کرتا ہے تاکہ بجلی گھروں پر بوجھ کم ہو سکے۔
٭٭٭


