میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے

ایران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے

جرات ڈیسک
هفته, ۲۸ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایران پر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے شروع کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ایران کے مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں۔

ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر حملوں کے ردعمل میں اسرائیل کے بعد مختلف خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ تمام امریکی اڈے اور مفادات ایران کی پہنچ میں ہیں۔

عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ہفتے کو متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظبی میں زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

اسی طرح کویت میں بھی سائرن کی آواز سنی گئی جب کہ قطری دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے  رپورٹ کیا گیا ہے کہ امریکی پانچویں بیڑے کے سروس سینٹر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

عراقی ملیشیا حشد کے ترجمان نے بتایا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے جنوب میں تنظیم کے ہیڈ کوارٹرز پر فضائی حملوں میں ایک شخص کی جان گئی اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

دوپہر 2 بجے: ایران پر حملوں کے آپریشن کو ’ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا ہے: پینٹاگون

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ہفتے کو بتایا ہے کہ امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف کے خلاف اپنے بڑے پیمانے کے حملوں کو آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) کا نام دیا ہے۔

محکمہ دفاع نے اس نام کا اعلان سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کیا لیکن ان حملوں کے حوالے سے اب تک مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج تہران کی بحری اور میزائل قوتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

دوپہر 1 بج کر 55 منٹ: اسرائیل کی طرف ڈرونز اور میزائلوں کی ’پہلی لہر‘ روانہ: پاسداران انقلاب

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب نے ہفتے کو کہا ہے کہ حملے کے بعد ااسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرونز اور میزائلوں کی ’پہلی لہر‘ روانہ کر دی ہے۔

دوپہر 1 بج کر 21 منٹ: ایران سے آنے والے میزائلوں کو روک رہے ہیں: اسرائیل

خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے آنے والے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی حملے سے ہونے والے کسی نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

12 بج کر 35 منٹ دوپہر: ایران پر حملے کا مقصد خطرات کو ختم کرنا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ امریکہ نے ایران میں ’اہم جنگی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہمارا مقصد امریکی عوام کا دفاع اور ایرانی حکومت سے فوری خطرات کو ختم کرنا ہے۔‘

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ایران کے میزائل تباہ کر دیے جائیں گے اور ان کی میزائل صنعت کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ ‘

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ اور دوسروں کے لیے خطرہ ہیں۔ ’ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی جانب سے منڈلاتے خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔‘

امریکی صدر نے زور دیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کو ’ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔‘ بقول ان کے: ’ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا اور مکمل تحفظ دیا جائے گا، ورنہ انہیں یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے اس خطے میں اپنے لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کی ایک بڑا بیڑہ جمع کر رکھا ہے تاکہ ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔

دوپہر 12 بج کر 25 منٹ: امریکہ ان حملوں میں شامل ہے: امریکی عہدیدار

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار اور اس آپریشن سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ ان حملوں میں شامل ہے۔

امریکی شمولیت کس حد تک ہے، یہ واضح نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ آیا 86 سالہ خامنہ ای اس وقت اپنے دفاتر میں موجود تھے۔ امریکہ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے باعث وہ کئی دنوں سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سے کیے جا رہے ہیں۔

دوپہر 12 بج کر 10 منٹ: حملے امریکہ کی مشاورت سے کیے: اسرائیلی عہدیدار

ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہفتے کو ایران کے خلاف اسرائیلی حملہ امریکہ کی مشاورت سے کیا گیا۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور اس کے آغاز کی تاریخ کئی ہفتے قبل ہی طے کر لی گئی تھی۔

دن 11 بج کر 40 منٹ: ایران میں دھماکوں کی آوازیں، فضائی حدود بند

ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں لوگوں نے دھماکے کی آواز سنی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے حوالے سے خبر دی کہ تہران میں یونیورسٹی سٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں کئی میزائل گرے ہیں۔

اسی طرح اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اے ایف پی نے تسنیم نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایرانی سول ایوی ایشن ایجنسی نے بتایا ہے کہ دارالحکومت تہران اور دیگر مقامات پر متعدد دھماکوں کے بعد ایران نے ہفتے کو اپنی فضائی حدود تاحکم ثانی بند کر دی ہے۔

ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ’پورے ملک کی فضائی حدود تاحکم ثانی بند رہیں گی۔‘

دن 11 بج کر 30 منٹ: ایران نے اسرائیل پر حملہ کر دیا

اسرائیل نے ہفتے کو کہا ہے کہ اس نے ہفتہ کو ایران پر پیشگی حملہ کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا: ’ریاست اسرائیل نے اپنے اوپر منڈلاتے خطرات کو ختم کرنے کے لیے ایران پر پیشگی حملہ کیا ہے۔‘

اے پی کے مطابق اسرائیل کے مختلف حصوں میں بھی سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’عوام کو یہ تیاری دینے کے لیے ایک پیشگی الرٹ جاری کیا کہ ممکن ہے ریاست اسرائیل کی طرف میزائل داغے جائیں۔‘

روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل بھر میں سکول بند کر دیے گئے ہیں اور عوام کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ملک میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اسی طرح اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے اعلان کیا کہ ’سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر اسرائیل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر کو ریاست اسرائیل کی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔‘

حملوں سے ایرانی جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں مزید مدھم

اس نئی صورت حال نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے اور مغرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے۔

امریکی حملے کی صورت میں ’سخت جوابی کارروائی‘ کا ایرانی انتباہ

گذشتہ برس جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے ان مسلسل انتباہات کے بعد کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو آگے بڑھایا تو وہ دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔

امریکہ اور ایران نے فروری میں سفارت کاری کے ذریعے اس دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والے ممکنہ فوجی تصادم کے خطرے کو ٹالنے کی کوشش میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے۔

تاہم، اسرائیل کا اصرار تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی معاہدے میں صرف افزودگی کے عمل کو روکنا ہی نہیں بلکہ تہران کے جوہری ڈھانچے کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے اور اس نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کو بھی شامل کرے۔

ایران نے کہا کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنوں کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس معاملے کو میزائلوں کے ساتھ جوڑنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔

تہران نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔

اس نے امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کو نشانہ بنایا تو وہ امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا۔

جون میں، امریکہ ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف ایک اسرائیلی فوجی مہم کا حصہ بنا تھا، جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف اب تک کی سب سے براہ راست امریکی فوجی کارروائی تھی۔

جس پر تہران نے قطر میں واقع مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی ہوائی اڈے ’العدید‘ کی جانب میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی۔

مغربی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل منصوبہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اگر اسے مزید تیار کر لیا گیا تو یہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم تہران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں