میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ،نارتھ کراچی میں بغیر نقشے کے تعمیرات ، محکمانہ ملی بھگت

سندھ بلڈنگ ،نارتھ کراچی میں بغیر نقشے کے تعمیرات ، محکمانہ ملی بھگت

ویب ڈیسک
هفته, ۲۸ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

عاطف شیروانی کی خاموشی سے تعمیراتی مافیا کی سرپرستی کا انکشاف،سرکاری خزانے کو نقصان
سیکٹر 11Bکے پلاٹ نمبر A473،A625پر بغیر منظوری بالائی منزل ، شہریوں کا احتجاج

نارتھ کراچی کے مختلف سیکٹرز میں بغیر نقشے اور سرکاری منظوری کے تعمیرات کا سلسلہ عروج پر ہے ۔ مقامی شہریوں اور ماہرین کے مطابق، رہائشی زونز میں کمرشل تعمیرات اور نقشوں سے تجاوز کرنے والی منصوبہ بندی سیکٹر 11B کے پلاٹ نمبر A473 اور A625 پر دن دیہاڑے جاری ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی سرگرمیوں میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عاطف شیروانی سمیت کچھ محکمانہ افسران کے تعمیراتی مافیا سے مبینہ روابط نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے ۔عینی شاہدین اور متاثرہ مکینوں کے مطابق، حالیہ دنوں میں نارتھ کراچی میں کئی تعمیرات ایسی ہیں جو نہ صرف بغیر نقشے کے ہو رہی ہیں بلکہ ان میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل دکانیں اور گودام بنائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب بھی محکمانہ کارروائی کا امکان ہوتا ہے ، عاطف شیروانی یا ان کے ماتحت عملہ پہلے سے اطلاع دے کر مافیا کو محفوظ راستہ فراہم کر دیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے نہ صرف شہر کا حسن تباہ ہو رہا ہے بلکہ سرکاری محصولات کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔ فیس اور ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والی رقم مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ہتھیا لی جاتی ہے ،جس سے خزانے پر خطیر رقوم کا بوجھ پڑ رہا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے ، لیکن عوام کا مطالبہ ہے کہ عاطف شیروانی کے خلاف فوری طور پر سخت محکمانہ کارروائی کی جائے تاکہ تعمیراتی مافیا کے خلاف جنگ میں واضح پیغام جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں