
صوبائی کابینہ اجلاس، کراچی کو پانی کی فراہمی ، کینجھر جھیل ، کے بی فیڈر کی بہتری کا فیصلہ
شیئر کریں
خواتین کیلئے 1ہزار پنک الیکٹرک موٹر سائیکلیں، ڈبل ڈیکر بسیں، الیکٹرک وہیکلز کی منظوری
ڈاو یونیورسٹی میں کتے ،سانپ کے کاٹنے کی ویکسین کے لیے الگ کمپنی قائم کرنے کی اجازت
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کیاجلاس میں کئی اہم فیصلے ، خواتین کے لیے 1,000 پنک الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی خریداری ، کراچی کے لیے ڈبل ڈیکر بسوں اور الیکٹرک وہیکلز کے حصول کی منظوری دے دی گئی۔ کابینہ نے کے فور منصوبے کے لیے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی خاطر کینجھر جھیل اور کے بی فیڈر کی فوری بہتری کا بھی فیصلہ کیا ۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے ڈاؤیونیورسٹی کو اینٹی اسنیک اور اینٹی ریبیز ویکسین تیار کرنے کے لیے ایک کمپنی قائم کرنے کی اجازت دے دی۔کابینہ اجلاس جمعرات کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزرا، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ ٹرانسپورٹ اینڈ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی خواتین کی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے ایک پائیدار ٹرانسپورٹیشن پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔یہ منصوبہ خواتین کے لیے تقریبا 1,000 الیکٹرک موٹر سائیکلیں متعارف کرائے گا جو کھلی اور شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے لیے 300 ملین روپے درکار ہوں گے جو بجٹ سے ہٹ کر حاصل کیے جائیں گے ۔ کابینہ نے نوٹ کیا کہ دنیا بھر میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد روزمرہ آمد و رفت کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو اپنے بنیادی سفری ذریعے کے طور پر اپنا رہی ہے ۔اس طلب میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں زیادہ نقل و حرکت، کاروں یا عوامی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں کم لاگت، ماحول دوستی اور کم سے کم دیکھ بھال شامل ہیں۔ یہ موٹر سائیکلیں خواتین کی نقل و حرکت اور خود مختاری کو نمایاں طور پر بڑھانے میں مدد دیتی ہیں، معاشی خود مختاری کو فروغ دیتی ہیں، صنفی تعصبات کو توڑتی ہیں اور تحفظ و سلامتی میں بہتری لاتی ہیں۔کابینہ نے فیصلہ کیا کہ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی ان الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی خریداری مسابقتی بولی کے ذریعے ایک یا زیادہ مینوفیکچررز سے کرے گی جس کا انحصار قیمت اور دیکھ بھال کے عوامل پر ہوگا۔ تقسیم کا عمل شفاف اور کھلی قرعہ اندازی کے ذریعے میڈیا کی موجودگی میں کیا جائے گا جس کے لیے اہلیت کے مخصوص معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔ اہل امیدوار کے لیے لازم ہے کہ وہ سندھ کی مستقل رہائشی ہو۔ وہ طالبہ ہو یا برسرِ روزگار خاتون ہو۔ وہ الیکٹرک موٹر سائیکل کو سات سال تک فروخت نہ کرے ۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کراچی کے لیے 50پبلک ٹرانسپورٹ بسیں خریدنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جن میں 15 ڈبل ڈیکر بسیں اور 35الیکٹرک بسیں شامل ہیں۔ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے شاہراہِ فیصل پر 15 ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کا ارادہ ظاہر کیا اور اس تجویز کی منظوری دیتے ہوئے منصوبے کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے ۔ یہ بسیں شہر کے مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ سندھ حکومت نے حکومتِ پاکستان کے اشتراک سے "گریٹر کراچی بلک سپلائی اسکیم کے -فور” کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد پانی کی فراہمی میں 1,200 کیوسک کا اضافہ کرکے مجموعی طور پر 2,400 کیوسک تک پہنچانا ہے ۔19 جولائی 2023 کو ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل ( ایکنک) نے کے -فور منصوبے کے لیے پانی کی ضروریات کے عنوان سے پی سی-ون کی منظوری دی، جس کا بجٹ 39,942.559 ملین روپے رکھا گیا جو وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان مساوی تقسیم کیا گیا۔ تاہم اس کے بعد تعمیراتی لاگت اور مزدوری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔مالی سال 24-2023 کے دوران محکمہ آبپاشی نے جاری معاہدوں سے متعلق آٹھ اشیا کے لیے عبوری ریلیف طلب کیا کیونکہ کلری بگھار فیڈراپرلائننگ منصوبے کے علاوہ کوئی نیا منصوبہ منظور نہیں کیا گیا۔