میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قومی اثاثوں کی لوٹ سیل کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم

قومی اثاثوں کی لوٹ سیل کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم

ویب ڈیسک
هفته, ۲۷ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

اگر حکمران طبقہ بھی نااہل ہے اور گڈ گورننس کے قابل نہیں تو کیا ان کی بھی نجکاری کردی جائے
صوبہ سندھ بد امنی اور کرپشن کی لپیٹ میں ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں ، پریس کانفرنس سے خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہپی آئی اے قومی فخر و قیمتی اسٹریٹیجک اثاثہ ہے، قومی اثاثوں کی لوٹ سیل کسی صورت قبول نہیں یہ ملک و قوم اور قومی اداروں کے ساتھ ظلم ہے۔ پی آئی اے نے گزشتہ 6 ماہ میں 10 ارب روپے کا منافع حاصل کیا تو پھر اسے کیوں فروخت کیا گیا۔ کل 38 جہاز میں سے 18 جہاز چل رہے ہیں۔ 80 سے 90 ارب روپے ایک جہاز کی قیمت ہوتی ہے لیکن پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں کوڑیوں کے مول فروخت کردیا۔ اگر 135 ارب روپے کی جگہ 335 ارب روپے کی بولی بھی لگائی جاتی تو اسے فروخت نہیں کرنا چاہیے تھا۔ قومی اداروں کو اس بنیاد پر فروخت کرنا کہ حکومت انہیں چلا نہیں پارہی حکومتی نااہلی و ناکامی ہے۔حکمران نیلامی کے عمل کو بھی درست طریقے سے کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اگر حکمران طبقہ بھی نااہل ہے اور گڈ گورننس کے قابل نہیں تو کیا ان کی بھی نجکاری کردی جائے۔ حال یہ ہے کہ اگر حکمرانوں کی نجکاری کی گئی تو کوئی انہیں خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ داران کا تعین کیے بغیر اس قومی ادارے کی نجکاری نہیں ہونی چاہیے تھی۔مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ انہوں نے پی آئی اے میں جعلی بھرتیاں کیں ان کی نا اہلی و کرپشن نے پی آئی اے کو تباہ کیا۔ ہم ایٹمی قوت ہیں ہمیں فلسطینیوں کے لیے طاقت فراہم کرنا چاہیے۔ آرمی چیف اور فیلڈ مارشل کو اپنا موقف قوم کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ کیاہماری فوج غزہ جاکر حماس کو ختم اور اسرائیل کو طاقت فراہم کرنا چاہتی ہے۔جو رویہ اسرائیل کا ہے وہی رویہ بھارت کا بھی ہے۔ بھارت نے مسیحوں کے تہوار کرسمس کے موقع پر حملے کروائے اور فلسطین میں بھی اسرائیل نے بمباری کی۔وزیر اعظم بتائیں کہ امریکی صدر نے کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی بات کی تھی وہ کہاں گئی؟صوبہ سندھ بد امنی اور کرپشن کی لپیٹ میں ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں،نوشہرو فیروز میں تاجر کو قتل کیا گیا۔آرمی چیف نے جس سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کی تھی اسی سسٹم کو سب سے اوپر اسلام آباد میں لے جاکر بٹھادیا گیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں