میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ملیر میں اینٹوں کی بارش، قانون کا جنازہ

ملیر میں اینٹوں کی بارش، قانون کا جنازہ

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۷ اگست ۲۰۲۵

شیئر کریں

ڈی جی کی پراسرار خاموشی، اے ڈی ذوالفقار بلیدی کے چرچے ہر دیوار پر
سعود آباد ایس ون پلاٹ 105اور 420رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات

ضلع کورنگی کے علاقے ملیر کی گلیاںغیر قانونی شہر کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اینٹوں کے انبار، سریے کے جنگل اور کھڑی ہوتی عمارتیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ یہاں قانون محض کتابوں میں بند ہے ۔ مگر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل صاحب ایسے خاموش ہیں جیسے یہ سب کچھ خواب و خیال ہو۔ ان کی خاموشی اتنی گہری ہے کہ لگتا ہے شاید اینٹوں کے شور سے لوریاں سن رہے ہوں۔ اسی دوران اے ڈی ذوالفقار بلیدی کا چرچا زبان زدِ خاص و عام ہے ۔ عوام کہتے ہیں کہ اگر بلیدی صاحب کی کامیابیوںپر کتاب لکھی جائے تو اس کا عنوان یہی ہوگا ’’دیواروں کے بیچ کمائی کی کہانیاں‘‘۔ ان کا نام اب محفلوں میں لطیفہ بھی ہے اور حقیقت بھی۔شہری پوچھتے ہیں کہ یہ بلڈرز مافیا آخر کس کے کندھوں پر بیٹھ کر ناچ رہا ہے ؟ اور کب تک یہ عمارتیں کمزور زمین پر اونچائی کو چھوتی رہیں گی؟ شاید جواب ملیر کی انہی تنگ گلیوں میں دفن ہے ، جہاں ہر دیوار پر بلیدی صاحب کے چرچے اور ڈی جی صاحب کی پراسرار خاموشی کندہ ہے ۔لگتا ہے ملیر میں اینٹ، سریا اور کرپشن ایک ہی بیگ میں بند ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ اینٹ اور سریا عمارتوں کو سہارا دیتے ہیں، جبکہ کرپشن انہی عمارتوں کو ڈھانے کے لیے کافی ہے ۔زیر نظر تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سعود آباد نمبر 1ایس کے رہائشی پلاٹوں 420اور 105پر کمرشل تعمیرات تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہیں مقامی رہائشیوں نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری ایکشن لے کر ان عمارتوں کو روکا جائے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور ادارے اپنی آنکھیں بند رکھیں گے تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے ۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہمیں محفوظ چھت چاہیے ، ملبے کا قبرستان نہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں