میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں، ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے دعوے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں، ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے دعوے

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۷ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان اور افغانستان  کے درمیان جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پرقرار ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب جمعرات کی رات کو افغانستان میں طالبان حکومت نے 21 فروری کے حملوں کے جواب میں سرحدی علاقوں میں پاکستانی پوسٹس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

پاکستان نے ان ’بلا اشتعال‘ حملوں کے جواب میں افغانستان پر جوابی حملے کیے، جو حکام کے مطابق تاحال جاری ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق کابل، پکتیکا اور قندھار میں پاکستان نے افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ اب تک پاکستان کے حملوں میں افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک اور 200 سے زیادہ ہلاک ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پاکستانی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز کے حملوں میں 55 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ متعدد کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔

طالبان کی وزارتِ دفاع کے مطابق ان کی جانب سے حملے رات کو 12 بجے نائب امیر کے احکامات پر بند کر دیے گئے تھے۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں