سندھ بلڈنگ، گلستان جوہرکے بلاک 19میں غیر قانونی تعمیرات جاری
شیئر کریں
انسپکٹر اورنگزیب خان پر مافیا کو تحفظ دینے کے الزامات، درجنوں عمارتیں مخدوش
پلاٹ نمبر B24 پر تعمیراتی لاقانونیت برقرار ، اتھارٹی کی کارروائی محض نمود کی نذر
گلستان جوہر بلاک 19 میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، جس کی ذمہ داری مقامی رہائشی اور سماجی حلقے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران، خاص طور پر بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب خان پر عائد کر رہے ہیں۔ ان پر تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت اور رشوت لے کر غیرقانونی کاموں کو جاری رہنے دینے کے سنگین الزامات ہیں۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں بغیر منظور شدہ نقشے اور ضروری سہولیات کے کئی منزلہ عمارتیں تیزی سے کھڑی ہو رہی ہیں۔ ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "یہ پورا کھیل نوٹ اور رشوت پر چلتا ہے ۔ انسپکٹر صاحب کو اطلاع دینے کے بعد یا تو کوئی ٹیم آتی ہے ، بے ضرر سی وارننگ دیتی ہے ، اور پھر خاموشی۔ اس دوران تعمیراتی کام تیزی سے آگے بڑھتا رہتا ہے "۔یہ واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب کنٹونمنٹ بورڈ فیصل نے اپنے سروے میں گلستان جوہر اور ڈرگ روڈ کی 63 رہائشی عمارتوں کو ساختی طور پر خطرناک قرار دیا ہے ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بلاک 19میں کم از کم 12 عمارتیں اس فہرست میں شامل ہیں، جو اسے انتہائی خطرناک علاقہ بناتی ہیں۔کنٹونمنٹ بورڈ نے ان عمارتوں کے مکینوں کو فوری انخلا کا مشورہ دیتے ہوئے ،انہیں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے رجسٹرڈ انجینئر سے ساختی جائزہ کروانے کی ہدایت کی ہے ۔ فہرست میں بلاک 19 کی ‘شمائل گارڈن’، ‘سپریم کیسل’، ‘گلشن کمپلیکس’ سمیت متعدد عمارتیں شامل ہیں۔ اس کے باوجود، غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ رکا نہیں ہے ۔بلاک 19 میں کنٹونمنٹ بورڈ فیصل کی فہرست میں خطرناک عمارتوں میں سے چند ایک: شمائل گارڈن سپریم کیسل گلشن کمپلیکس فرحان پیراڈائز ویلکم سینٹر اور لاکھانی ہائیٹس شامل ہیں ۔زمینی حقائق اور جرأت سروے کے مطابق پلاٹ نمبر B24 پر تعمیراتی لاقانونیت برقرار ہے ۔شہری حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ایک دو عمارتیں منہدم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ "اصل مسئلہ وہ نظام ہے جو ان عمارتوں کو بننے دیتا ہے ۔ جب تک ایس بی سی اے جیسے اہم ادارے میں اورنگزیب خان جیسے افسران اور ان کے حامی بیٹھے رہیں گے ، یہ سلسلہ جاری رہے گا”۔ان کا مطالبہ ہے کہ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور اعلیٰ حکام اس گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرکے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں۔اس صورتحال پر ایس بی سی اے کے ترجمان یا مذکورہ بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب خان کی طرف سے کوئی باقاعدہ تبصرہ موصول نہیں ہوا۔ رہائشیوں اور شہری حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ جب تک ادارے کے اندر شفافیت اور اندرونی صفائی نہیں ہوگی، کراچی کے اس پرانے مسئلے کا تدارک ممکن نہیں ہوگا۔


