میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جماعت اسلامی کو کراچی میں اداروں نے دیوار سے لگا دیا

جماعت اسلامی کو کراچی میں اداروں نے دیوار سے لگا دیا

منتظم
هفته, ۲۶ نومبر ۲۰۱۶

شیئر کریں

روشنیوں کے شہر کو خوشبوﺅں کا شہر بھی بنائیں گے ،سراج الحق
اسلامی نظام روٹی ،کپڑا ،مکان ،صحت ،تعلیم ،روزگار سب دے گا ،صرف جماعت اسلامی ہی یہ نظام لا سکتی ہے
انٹرویو:ابو محمد/فہیم ناز
عکاسی :آصف راٹھور
جرا¿ت:کراچی میں دو روزہ ورکرز کنونشن کا یہ پنڈال کن مقاصد کے تحت آپ نے سجایا ہے ؟
سراج الحق:ہم عوام کو بیدار کرنا چاہتے ہیں، قائد اعظم کے فرمان اتحاد ، تنظیم ، یقین محکم،کے پیغام کو عام کریں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، ہم بدلیں گے تو پاکستان بدلے گا ۔جماعت اسلامی پاکستان میں ووٹ کے ذریعے انقلاب برپا کرے کرنا چاہتی ہے ۔ہم بے بس ،بے کس مفلوک الحال عوام کو اس کا حق دلوانا چاہتے ہیں ،حکمرانوں سے عوام کا حصہ واپس لینا چاہتے ہیں۔ آج امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہورہا ہے ،زمیندار، وڈیرے ،سرمایہ دار عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ غریب کسان کو دووقت کی روٹی نصیب نہیں ہورہی ۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کی بڑی آبادی اس زراعت و ملازمت سے وابستہ ہے لیکن جاگیردارانہ نظام نے ہمارے کسانوں اور مزدور سے ان کے منہ کا نوالہ چھین لیا ہے ۔غریبوں کے بچے تعلیم سے محروم ہیں غریب کسانوں کی بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہوگئی ہیں۔ یہ ظلم کا نظام ہے، اس جاگیردارنہ نظام کے خلاف جماعت اسلامی مستقل جدوجہد جاری رکھے گی۔جاگیرداروں نے سودی نظام کا سہارا لے کرکسان کو غلام بنا یا ہوا ہے ۔مزدور وکسان کا پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے نہ ہیلتھ انشورنس ہے نہ انکے بچوں کو تعلیم ملتی ہے ، اسی رجعت پسند نظام کے خلاف یہ ورکرزکنونش اعلان جنگ ہے ۔
ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں سرکاری انڈسٹریز زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ ایک رکشہ ڈرائیورمحنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔ جہاں ٹیلی کمیونیکیشن اتنی ترقی کرگئی ہے کہ ایک موبائل شاپ والا دکاندار ہزاروں روپے کمالیتا ہے لیکن وہیںپی ٹی سی ایل جیسے ادارے کی نجکاری کردی جاتی ہے، اسٹیل مل کو کوڑیوں کے مول فروخت کرنے کی سازش کی جارہی ہے ، پی آئی اے کو فروخت کیا جارہا ہے۔ آخر کیوں ہمارے عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے ۔کرپشن کے ناسور نے ہمارے قومی اداروں کو تباہ کردیا ہے۔ اسٹیٹس کو کی سیاسی جماعتیں اس خرابی کی ذمہ دار ہیں ۔کرپشن کا کینسر نیچے تک سرایت کر گیا ،ہم محمود غزنوی کی طرح کرپشن کے خلاف ایک بار نہیں 17سے بھی زیادہ حملے کریں گے ۔
جرا¿ت:کراچی میں طویل عرصے کے بعد جماعت اسلامی کا اجتماع ہورہا ہے ،کیا جماعت اسلامی کے لیے سیاسی راہ ہموار ہوسکے گی ؟
سراج الحق: جماعت اسلامی گلی اور کوچوں میں موجود ہے ۔بنیادی بات یہ ہے کہ آج تک شفاف انتخابات نہیں کرائے گئے اور اداروں کے سازباز نے عوام کی طاقت کو دیوار سے لگادیا ہے ۔ عوامی نمائندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا گیا، جس کے باعث کرپٹ سیاست دان آگے آگئے۔ہمیںکراچی و سندھ بلکہ پورے پاکستان کے عوام کو احساس دلانا ہے کہ اس مملکت خداداد پاکستان کے اقتدار میں وہ شریک ہیں ۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ دنیا تو چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم عوام کو پینے کا صاف پانی، رہنے کے لیے گھراور روزگار بھی فراہم نہیں کرسکے۔ کیا پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی ہے ؟سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے ،ہم کراچی کو اون کریں گے اور اس شہر کی روشنیوں کو بحال کریں گے، اور 2018کا الیکشن جماعت اسلامی کی فتح کو ثابت کردے گا ۔کیونکہ اس شہر میں ہمارے اکابرین عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان نے وہ شاندار کارنامے انجام دیئے ہیں جس کی نظیر نہیں ملتی ۔مگر کراچی میں اداروں اور ایم کیو ایم کی ساز باز نے ہماری جماعت کو دیوار سے لگا دیا اور دعوت کے راستے مسدود کردیے۔اب لوگ بھی دروازے کھول رہے ہیں اور ہم انکے پاس جا رہے ہیں،اچھے دن آئیں گے ۔ہم کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر تو بنائیں گے ،اسے خوشبوو¿ ں کا شہر بھی بنائیں گے جس کی مہک پورے پاکستان کو ترقی دے کر اسلامی فلاحی ریاست بنا دے گی ۔
جرا¿ت :آپ عام لوگوں کو جماعت اسلامی کی طرف راغب کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل رکھتے ہیں ؟
سراج الحق:ہم لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلارہے ، ہم تواللہ رب العزت، نبیﷺ اور قرآن کی دعوت دے رہے ہیں ۔یہی حق کا راستہ ہے، اگرجلدی کامیابی نہیں مل رہی تو دیر سے ملے گی اور اگر ہم کامیاب نہیں بھی ہوئے تو اپنے رب کے سامنے سروخرو تو ہوں گے۔ کیونکہ ہمارے سامنے انبیاءکرام کی مثالیں موجود ہیں ، سینکڑوں سال بھی دعوت دین کا کام کرنے کے بعد دنیا میں تو وہ کوئی لشکر جمع نہیں کرسکے تو کیا وہ مایوس ہوگئے ؟یا انہوں نے حق کا راستہ چھوڑ دیا ؟نہیں ۔۔اصل کامیابی یہ ہے کہ رب کریم نے فرمایا ”کامیاب تو دراصل وہ ہیں جو آتش دوزخ سے بچ جائیں اور جنت میں داخل کردیئے جائیں ۔“ کامیابی تو میرے رب کی رضا ہے اور ہماری ساری جدوجہد کا مقصد یہی ہے کہ اللہ کی رضا کیسے حاصل ہو۔
جرا¿ت :کوٹہ سسٹم پر جماعت اسلامی کی کیا پالیسی ہے ؟
سراج الحق:ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست کی مثال ماں کی طرح ہے ۔ہر شہری کو روٹی ، کپڑا ، مکان ، روزگار دینا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔اگر کوئی ریاست یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو اس کے ذمہ دار اس کے حکمران ہیں ۔ہمارا نعرہ یہی ہے کہ” اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان ہے“ کیونکہ اسلام نے ریاست کاایک ایسا تصور پیش کیا ہے جو کہ دنیا میں اس پہلے رائج نہیں تھا ۔جہاں کوئی عام آدمی بھی اپنے حکمراں ، اپنے خلیفہ سے سوال کرسکتا ہے ۔ہم میرٹ کا نظام لانا چاہتے ہیں ،کوٹہ سسٹم ظالمانہ نظام ہے ،اسلامی ریاست میں سب کو میرٹ کے مطابق اس کا حق دیا جاتا ہے ۔
جرا¿ت :جماعت اسلامی کا سندھ کے عوام کے لیے کیا پیغام ہے ؟
سراج الحق:اجتماع عام کے موقع پر نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ کے عوام سے ہم جرگہ کرنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ کی آئندہ نسلیں بھی غلام رہیں گی ؟جنہوں نے روٹی ، کپڑا اور مکان کے نام پر آپ کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا، مہنگائی کے باعث غریبوں کے سر سے چھت چھین لیا ،کیا ابھی بھی آپ ان کو ووٹ دیں گے؟ مجھے امید ہے کہ سندھ کے عوام باشعور ہیں، وہ کرپٹ سیاستدانوں کو پہچان چکے ہیں اور جماعت اسلامی کا صاف و شفاف کردار ان کے سامنے ہیں ۔
شہادت حسینؓ کا فلسفہ کیا ہے ،یہی کہ نواسہ¿ رسول نے یزید کی حکمرانی کوووٹ نہیں دیاچاہے اسی وجہ سے شہید کردیئے گئے ۔یعنی انہوں نے ظلم کے خلاف اپنا ووٹ کاسٹ کیا جس کی پاداش میں شہید کردیا گیا۔ ناکام کون ہوا؟ یزید یا حسینؓ ؟ جماعت اسلامی بھی حق کی صدا لگارہی ہے ، کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ وقت کرتاہے ۔
ہم سندھ کے عوام کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ کیا آپ کی آئندہ نسلیں بھی غلام ابن غلام ہوں گی ۔آج فیصلے کا وقت ہے ، اسلامی نظام ہی سندھ کے عوام کے غموں کا مداوا کرسکتا ہے۔ منصفانہ نظام قائم ہوگا تو غریب کے بچوںکو نہ صرف روٹی کپڑا اور مکان میسر آئے گا بلکہ تعلیم صحت اور روزگار کے مواقع بھی ملیں گے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے غریب عوام کا واحد سہارا ہے ۔ جماعت اسلامی کا اجتماع بے بس اور بے کس عوام کی آواز بنے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں