میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارت کے جارحانہ اقدامت پر پاکستان کا ردِ عمل

بھارت کے جارحانہ اقدامت پر پاکستان کا ردِ عمل

جرات ڈیسک
هفته, ۲۶ اپریل ۲۰۲۵

شیئر کریں

مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ۲۲ ؍اپریل کو حملے کے بعد بھارتی اقدمات کے جواب میں پاکستان کا ردِ عمل بھی سامنے آچکا ہے۔ یہ ایک اتفاق ہی ہو گا کہ جب ۲۲؍ اپریل کو پہلگام میں سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیرا عظم شہبازشریف دونوں ہی غیر ملکی دوروں میں مصروف تھے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سعودی عرب اور پاکستانی وزیرزاعظم ترکی کے دورے پر تھے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی فوراً ہی اپنا سعودی عرب کا دورہ درمیان میں چھوڑ کر آدھی رات کو نئی دہلی واپس آ گئے اور فوراً سے پیشتر کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں بھارت نے 26سیاحوں کی ہلاکت کا پاکستان پر حسبِ عادت الزام عائد کرتے ہوئے چھ اقدامات اُٹھائے جن میں سندھ طاس معاہدہ کے خاتمے، پاکستان میں موجود سفارت کار بھارت طلب کرنے، بھارت میں موجود پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں واپسی کا الٹی میٹم، تمام پاکستانیوں کو جاری ویزے فوری طور پر منسوخ کرنے،واہگہ بارڈر بند اوراٹاری چیک پوسٹ کو بھی بند کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستان نے ۲۴ گھنٹ انتظار کے بعد ۲۴؍ اکتوبر کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ جس میں اپنے جوابی اقدامات کو شمار قطار میں امکانی اور اشاراتی رکھا۔ پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ تمام دوطرفہ معاہدوں کے انعقاد کا حق استعمال کرنے کا اشارہ دیا ہے ،اور دیگر معاہدوں کے ساتھ شملہ معاہدہ کا خاص طور پر ذکر کیا۔ عملاً2 جولائی 1972کو طے پانے والے شملہ معاہدہ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان 1971کی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کر کے امن و استحکام کی راہ ہموار کرنا تھا۔ معاہدے میں دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنے تمام اختلافات کو پرامن ذرائع سے ، خاص طور پر دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے ، یا کسی ایسے طریقہ کار پر عمل کریں گے جس پر باہمی طور پر اتفاق ہو۔دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے طے پایا کہ دونوں ممالک کی افواج بین الاقوامی سرحد پر اپنی اپنی حدود میں واپس چلی جائیں معاہدے کے تحت جموں و کشمیر میں 17 دسمبر 1971 کو جنگ بندی کے نتیجے میں جو لائن قائم ہوئی، اسے ‘لائن آف کنٹرول’تسلیم کیا جائے گا۔ دونوں فریق اس کا احترام کریں گے ، اور یکطرفہ تبدیل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے ۔دونوں فریق اپنے اپنے قومی مفادات کے تحت معاہدے میں شریک ہوئے ، لیکن معاہدے میں شامل ‘دوطرفہ مذاکرات’کی شق آنے والے عشروں میں ایک پیچیدہ سفارتی رکاوٹ بن گئی۔ جس کا ہمیشہ بھارت نے فائدہ اُٹھایا۔ اس گنجلک سفارتی رکاؤٹ کے باعث بیشتر واقعات میں بھارت نے دنیا کی ثالثی کو مسترد کیا اور اسی معاہدے کی آڑ لے کر کشمیر میں حق خود ارادیت کے معاملے پر دنیا کی آواز کو بھی نظرانداز کرنا شروع کیا۔ بھارت نے اپنے ہر اقدام کے جواب میں عالمی ردِ عمل کو یہ کہہ کر ٹالا کہ وہ پاکستان کے ساتھ یہ معاملہ شملہ معاہدہ کے تحت دوطرفہ بنیادوں پر حل کرے گا۔ دوسری طرف پاکستان کو اپنے اندرونی مسائل میں الجھا کر اور یہاں موجود سول ملٹری تعلقات کی ناہمواری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ‘سیاسی ارادے ’کو متزلزل بنائے رکھا۔یوں بھارت نے دوطرف مذاکرات کی شق کو بنیاد بنا کر ہر بار مسئلہ کشمیر پر عالمی ثالثی کی مزاحمت کی، جبکہ پاکستان کے لیے یہ شق ایک سفارتی رکاوٹ بن کر رہ گئی۔اس طرح یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شملہ معاہدہ ایک طرف تو دوطرفہ بات چیت کا دروازہ کھولتا رہا، لیکن دوسری جانب وہی دروازہ عالمی حمایت کے امکان کو بند بھی کرتا گیا۔ اگر پاکستان شملہ معاہدے کو معطل کرتا ہے تو ایسی صورت میں لائن آف کنٹرول کا وجود ختم ہو جائے گا۔ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی تقسیم بھی ختم ہوگی۔ یوں دیکھا جائے تو یہ ایک بڑا اقدام ہوگا۔ اس طرح پاکستان اور بھارت کے کے درمیان اب تک تعلقات کی بنیاد بننے والے تمام اساسی معاہدے اپنی افادیت کھو بیٹھیں گے۔ پاکستان نے اب واضح طو رپر بھارت کی جانب سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی پر بات کرنا شروع کی ہے جو بدقسمتی سے گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل کمزور کی جاتی رہی۔ حیرت انگیز طور پر بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف انتہائی سخت اقدامات لیے جانے کے باوجود سابق وزیراعظم نواز شریف نے اس پر لندن میں بات کرنے سے گریز کیا۔ وہ پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی کردار پر بات کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہے ہیں۔ یہی معاملہ اب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس کے محرکات جو کوئی بھی ہوں ، درحقیقت پاکستان کے اندر واضح اختلافات اور مخاصمت کے ماحول میں ایک حقیقی موقف کا دوٹوک ماحول بھارت کے خلاف پیدا کرنے میں ناکامی رہتی ہے۔ پھر پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کے تضادات میں سول ملٹری تعلقات اور حقیقی اختیار ات کی بحث بھی اس موضوع پر الجھنیں پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ اب پاکستان کی جانب سے قومی سلامی کمیٹی کے اجلاس سے ایک پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں23 اپریل کے بھارتی ردِ عمل میں مخفی خطرات کی مذمت کی گئی ہے اور بھارت کو خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی خود مختاری کولاحق کسی بھی خطرے کا تمام سطحوں پر مضبوط اقدامات کے ذریعے مقابلہ کیا جائے گا۔ پاکستان نے بجا طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اعلان کو بھی مسترد کرتے ہوئے پانی روکنے کے کسی بھی قدم کو اقدام جنگ کے ہم معنی قرار دیا ہے۔پاکستان نے بجا طور پر جوابی ردِ عمل میں بھارت کی دفاعی، فضائی اور بحری مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے انہیں اور ان کے معاون عملے کو فوری واپس بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا
ہے اوربھارت کے دفاعی، بحری اور ہوائی مشیروں کو 30 اپریل تک پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا ہے ۔اسی طرح پاکستان کی ہوائی حدود فوری طور پر تمام بھارتی ملکیت یا آپریٹ شدہ ہوائی کمپنیوں کے لیے بند کردی گئی ہے ۔یہ اقدامات مناسب طور پر ‘جیسے کو تیسا’ کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔
پاک بھارت تعلقات کی طویل تاریخ کے پیچ و خم میں یہ منظرنامہ کچھ اتنا عجیب بھی نہیں لگتا۔ درحقیقت بھارت خطے میں ایک علاقائی بالادستی کے دیرینہ مرض میں مبتلا ہے۔ اب وہ عالمی سطح پربھی ایک کردار کا خواہاں ہے۔ بھارت اپنی بالادستی کا خواب کسی اعلیٰ یا ارفع مقصد کے تحت نہیں بلکہ بالادستی کے جنون اور ہندوتوا کی سوچ کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ اس ضمن میں طاقت کے ذریعے وہ خطے کے تمام ممالک کے لیے الگ الگ خطرات پیدا کر چکا ہے۔ یہاں تک کہ اب بنگلہ دیش بھی بھارت سے دور ہو رہا ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کی فالس فلیگ آپریشن کی ایک تاریخ ہے جس کے اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں۔ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشنز کوئی نئی بات نہیں۔ بھارت نے بارہا جھوٹے الزامات کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ایسے کئی واقعات تب پیش آئے جب بھارت کو اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانی تھی یا اہم سفارتی لمحات درپیش تھے ۔جنوری 1971میں انڈین ایئرلائنز کا ایک طیارہ اغواء کر کے لاہور لے جایا گیا تو بھارت نے فوراً پاکستان پر الزام لگا کر اس کی مشرقی پاکستان کے لیے فضائی پروازوں پر پابندی عائد کر دی۔اسی طرح 20؍مارچ 2000کو امریکی صدر بل کلنٹن کے بھارتی دورے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 36سکھوں کا قتل عام ہوا، جس پر ابتدا میں الزام پاکستان پر عائد کیا گیا، تاہم بعد میں شواہد سے ثابت ہوا کہ یہ واقعہ بھارتی فورسز کی کارستانی تھی، جس کا مقصد کلنٹن کے دورے کے دوران پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔بعد ازاں 13؍دسمبر 2001کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا، جس کا الزام بغیر کسی واضح ثبوت کے پاکستان پر لگا۔ اس واقعے کو بھی بھارت نے سرحد پر فوجی نقل و حرکت اور جنگی ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔علاوہ ازیں فروری 2007میں سمجھوتا ایکسپریس میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 68افراد جاں بحق ہوئے ، جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔ اس کا الزام بھی پاکستان پر لگا لیکن بعد میں بھارتی ہندو شدت پسند تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ۔ اس حملے کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔ ممبئی میں 2008کے حملے فوراً پاکستان کے سر تھوپ دیے گئے ، تاہم تحقیقات میں تضادات اور اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے کی مشکوک ہلاکت نے حملے کے اصل محرکات واضح کردیے ۔دسمبر 2015 میں مودی کے اچانک پاکستان دورے کے بعد جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ کیا گیا اور بھارت نے ایک بار پھر بغیر ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزام عائد کیا جبکہ تحقیقات سے یہ واقعہ سفارتی روابط کو سبوتاژ کرنے کی سازش ثابت ہوا۔فروری 2019 میں پلواما میں خودکش دھماکے میں 40 بھارتی اہلکار مارے گئے ۔ یہ واقعہ ایسے وقت پر پیش آیا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آنے والے تھے اور بھارت نے فوری طور پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔ بعد ازاں تحقیقات نے بھارت کے اس پروپیگنڈے کو بھی جھوٹا ثابت کیا۔جنوری 2023میں پاکستانی انٹیلی جنس نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ضلع پونچھ میں ایک جعلی کارروائی کا منصوبہ بے نقاب کیا، جسے بھارت یومِ جمہوریہ کے موقع پر انجام دینا چاہتا تھا تاکہ پاکستان پر جھوٹے دہشت گردی کے الزامات لگا سکے ۔یہ تمام واقعات ایک منظم اور مسلسل طرزعمل کی نشان دہی کرتے ہیں، جس میں بھارت نے اہم سفارتی مواقع پر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے جھوٹی کارروائیوں کا سہارا لیا۔ان اقدامات سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے بلکہ خطے کے امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہوئے ۔غور کیا جائے تو یہ تاریخ واضح کرتی ہے کہ بھارت کی طرف سے ایسے خطرناک فالس فلیگ آپریشن مستقبل میں بھی خطرات کا طوفان اُٹھاتے رہیں گے۔ نیز بھارت ایسے اقداما ت کا فائدہ اُٹھانے کے لیے اپنے اقدام کو جس طرح جوابی اقدام کا ماحول دینا چاہتا ہے ، وہ سازشیں بھی جاری رکھے گا۔ ان حالات میں پاکستان کو بہت زیادہ گہرائی اور تدبر سے بروئے کا رآنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اندرونی محاذ پر موجود اپنے فالٹ لائنز کو دور کرنا چاہئے۔ نیز اندرونی تنازعات کو عالمی موضوع بننے سے بچانے کی بھرپورکوشش کرنا چاہئے۔ اسی طرح چند برسوں میں عوامی خواہشات کو سیاسی فیصلوں میں جس طرح روندا جاتا رہا ہے ، اس کو اب بند کرناچاہئے تاکہ اس طرح کے بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں کسی اندرونی کا انتشار کا سامنا نہ ہو۔ اسی طرح بھارت کے معاملے میں حد سے زیادہ نرمی خطرات کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کرنے کا باعث بنتی رہی ہے ۔ چنانچہ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت جیسے ازلی دشمن کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذوں کو کس طرح ترتیب دینا چاہئے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں