میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کے ایم سی ،شعبہ انجینئرنگ کی ناقص حکمت عملی ،شہری پریشان

کے ایم سی ،شعبہ انجینئرنگ کی ناقص حکمت عملی ،شہری پریشان

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۶ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایک ہی لاڈلے افسر پر نوازشیں، نصف درجن عہدوں پر تعینات، کارکردگی متاثر
ٹوٹ پھوٹ کے شکار کراچی کے انڈر پاس شہریوں کے لیے عذاب بننے لگے

کے ایم سی انجینئرنگ کی ناقص حکمت عملی ،افسران کی کمی یا پھر ایک ہی لاڈلے افسر کو نوازنے کے لیے نصف درجن عہدوں پر تعیناتی کا شاخسانہ، کراچی کے انڈر پاس شہریوں کے لیے عذاب بنتے جارہے ہیں، ضلع وسطی کے اہم علاقے ناظم آباد میں واقع انڈر پاس بارش اور سیوریج کے پانی پیوور بلاک کے ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے شہریوں کے لیے اذیت بنتا جارہا ہے، اس سے قبل مزار قائد کے قریب واقع نصرت بھٹو انڈر پاس، عمر شریف انڈر پاس بھی ٹوٹ پھوٹ کے سبب محکمہ انجینئرنگ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کررہاتھا۔ کے ایم سی انجینئرنگ کے قریبی ذرائع کے مطابق ڈبل ایکٹنگ پرموشن حاصل کرنے والے او پی ایس چیف انجینئر عبدالوحید نیپر اور ایکسین عشرت ریحان کے ایم سی کی حدود میں واقع انڈر پاسزکی دیکھ بحال اور مرمت کے ذمہ دار ہیں تاہم دونوں افسران پر اس حد تک ذمہ داری لاد دی گئی ہے کہ وہ احسن طریقہ سے کام انجام دینے سے قاصر نظر آرہے ہیں ،جس کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ذراِِئع کے مطابق عبدالوحید نیپر چیف انجینئر و ایکسین کورنگی کے عہدے پر براجمان ہونے کے ساتھ ساتھ انڈر پاسز، اوور ہیڈ برجز،پیڈسٹرین برجز اور بلڈنگز تعینات ہیں جبکہ کلک جیسے اہم ادارے کے پروجیکٹ بھی عشرت ریحان کے ذمہ ہیں۔ کے ایم سی انجینئرنگ کے افسران کا کہنا ہے کہ ایک افسر کی بیک وقت پانچ اہم عہدوں پر ورکنگ اور مانیٹرنگ ممکن نہیں ہے، جس کے سبب بھاری ترقیاتی فنڈ سے انفرااسٹرکچر بحالی کی کوششوں کے باوجود میئر کراچی اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ہدف تنقید بن رہی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں