میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ریڈ لائن منصوبہ ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش

ریڈ لائن منصوبہ ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۶ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

صحن ِ چمن
۔۔۔۔۔۔۔
عطا محمد تبسم

کبھی یہ شہر کشادہ سڑکوں، روشن شاہراہوں اور رواں ٹریفک کی پہچان تھا۔ آج وہی راستے مٹی، کیچڑ، پانی اور رکاوٹوں کی تصویر بن چکے
ہیں۔ روزانہ سفر کرنے والا شہری جب گھر سے نکلتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ منزل تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا۔ دھول اس کا مقدر ہے ،
شور اس کا ساتھی، اور ٹریفک جام اس کی قسمت بن چکی ہے ۔
یہ سب کچھ ایک بڑے خواب کے نام پر ہو رہا ہے ۔ کراچی میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ کا قیام ایک خواب ہی ہے ۔ اس خواب کی تکمیل
میں ریڈ لائن بی آر ٹی کا منصوبہ ہے ۔ جس کو شہر کی شہ رگ کہا جا رہا ہے ، وہ منصوبہ جو مالیر ہالٹ سے نمائش تک تقریباً26کلومیٹر کا سفر طے
کرے گا اور دعویٰ ہے کہ لاکھوں لوگوں کو سہولت دے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس خواب کی قیمت کون ادا کر رہا ہے ؟ابتدائی اندازوں کے
مطابق اس منصوبے پر 78 ارب روپے سے زائد خرچ ہونا تھے ،لیکن اب یہ 103 ارب روپے کا منصوبہ ہے ، اگر سادہ حساب لگایا جائے
تو ایک کلومیٹر پر چار ارب روپے سے زیادہ بیٹھتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بنیادی شہری سہولتیں بھی پوری طرح میسر نہیں، حکومتی تازہ
ترین اعداد و شمار 2026،تقریباً 29٪ آبادی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو، یعنی تقریباً 70 ملین لوگ افراد بنیادی
ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوں، اور تقریباً 3 میں سے 1 پاکستانی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔ یہ رقم حیران کن
ہے۔ کیا شہریوں کو ایسے مہنگے منصوبے کی ضرورت تھی۔ یہاں تو شہر میں عام بسیں جو ہر پانچ منٹ پر اسٹاپ پر موجود ہوں، اور سواریوں کو
اپنی منزل پر پہنچا سکیں۔ اس سے بھی ضرورت پوری ہوجاتی۔ یونیورسٹی روڈ بہت کشادہ تھی، اس کا ایک ٹریک ایسی بسوں کے لیے مختص کیا
جاسکتا تھا۔لیکن کمیشن مافیا ایسے کسی منصوبے کو کیوں قبول کرتا۔سرکاری بیانات کہتے ہیں کہ منصوبہ مکمل ہوگا تو سفر آسان ہو جائے گا، وقت بچے گا،ایندھن کی بچت ہوگی اور ماحول بہتر ہوگا۔ مالی معاونت کے لیے بڑے عالمی ادارے بھی ساتھ کھڑے ہیں، جن میں ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور Agence Française de Développement شامل ہیں۔ مگر قرض بہرحال قرض ہوتا ہے ، جسے آخرکار عوام نے ہی چکانا ہے ۔
یہ منصوبہ کئی برس پہلے 2016 میں شروع ہوا تھا۔ وقت گزرتا گیا، تاریخیں بدلتی گئیں، مگر شہریوں کے لیے مشکلات کم نہ ہو سکیں ۔
سڑکیں ٹوٹتی رہیں، راستے سکڑتے گئے ، کاروبار متاثر ہوئے ، ایمبولینسوں کا راستہ رکا، طلبہ دیر سے پہنچے ، ملازمین کی حاضریاں کٹیں۔کراچی
کے لاکھوں شہری سانس کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ترقی اگر انسان کو ہی مشکل میں ڈال دے تو اس پر سوال اٹھنا فطری ہے ۔ یونیورسٹی
روڈ پر متبادل راستے پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔لیکن حیرت انگیز طور پر بڑے بڑے گڑھے ، گٹر کا پانی، کھلے مین ہول، ٹوٹی ہوئی سڑکیں آئے
روز حادثات کا سبب بنتی ہیں، اور روزانہ کی بنیاد پر کئی افراد حادثات میں ہلاک یا معذور ہوجاتے ہیں۔یہ ترقی انسانی جانوں سے ہرگز قیمتی
نہیں ہے ۔بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی تعمیر میں تاخیر کے خلاف شہریوں، سماجی تنظیموں ، سیاسی جماعتوں نے بھی آواز اٹھائی ہے ، جماعت
اسلامی نے اس سلسلے میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں،لیکن اس سلسلے میں سندھ حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ رہا ہے ، یہ مقدمہ سندھ ہائی کورٹ
میں بھی داخل ہوا، لیکن عدالتی حکم کے باوجود ، حکومت سندھ کی جانب سے بی آر ٹی منصوبے کی نگرانی کے لیئے کمیٹی تشکیل نہیں دی اور نہ ہی
اس کا نوٹیفکیشن کیا۔سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ، اور صوبائی وزیر شرجیل میمن بھی اس سلسلے میں یقین دہانی کراتے رہے ہیں۔ لیکن عملی
طور پر اس منصوبے میں حکومت سندھ انتہائی غیر سنجیدہ رویہ اپنائے ہوئے ہے ۔ یہاں تک کے میئر کراچی نے توریڈ لائن منصوبہ 2035
تک مکمل نہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہرکیاہے ۔ عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2017میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس
منصوبے کو 2023 میں مکمل ہونا تھا، تاہم بار بار توسیع دی گئی جس کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔اس منصوبے کا مقصد شہریوں کو جدید
اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنا تھا لیکن بدانتظامی اور سست روی کے باعث یہ منصوبہ عوام کے لیے اذیت کا باعث بن چکا ہے ۔ اور تاخیر سے منصوبے کی لاگت 79ارب روپے سے بڑھ کر اب 103 ارب روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ حکومت نے ریڈ لائن منصوبہ مکمل کرنے کی نئی مدت 2026 تک دے رکھی ہے ۔لیکن اب بھی لگتا نہیں ہے کہ یہ منصوبہ اس سال میں مکمل ہوجائے گا۔
شہری یہ نہیں کہتے کہ شہر میں بہتری نہ آئے ۔ وہ صرف یہ پوچھتے ہیں کہ کیا منصوبہ بندی بہتر نہیں ہو سکتی تھی؟ کیا کام مرحلہ وار نہیں ہو سکتا
تھا؟ کیا ٹریفک کے متبادل راستے مؤثر نہیں بنائے جا سکتے تھے ؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ منصوبہ واقعی مقررہ معیار اور وقت پر مکمل ہوگا؟
کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ کھدائی صرف سڑکوں کی نہیں، اعتماد کی بھی ہوگی۔کراچی کے لوگ اب وعدوں سے زیادہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ
بسوں کو چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ صرف بورڈز اور بیانات کو۔ وہ ترقی کا ثمر چاہتے ہیں، صرف صبر کا مطالبہ نہیں۔وقت آ گیا ہے کہ
متعلقہ ادارے واضح ٹائم لائن، اخراجات کی شفاف تفصیل اور تکمیل کی یقین دہانی دیں۔ ورنہ شہریوں کے دل میں یہ سوال بڑھتا رہے گا کہ
یہ منصوبہ واقعی نجات ہے یا ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں