حیدرآباد،سرکاری و نجی عمارتوں میں فائر سیفٹی اقدامات نظرانداز
شیئر کریں
گل پلازہ آتشزدگی واقعے نے انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات کھڑے کر دیے،ایس بی سی اے کی غفلت بے نقاب
کمرشل اور رہائشی عمارتوں کے نقشے منظور کرتے وقت فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات نظرانداز
(اظہر رضوی)گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے نے حیدرآباد میں سرکاری اداروں، بالخصوص سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق SBCA کی جانب سے کمرشل اور رہائشی عمارتوں کے نقشے منظور کرتے وقت فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا، جب کہ ضلعی حکومت بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ خود SBCA کی عمارت، جو سِوک سینٹر میں واقع ہے، وہاں بھی ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں، نہ ہی فائر سیفٹی کا مؤثر نظام نصب ہے اور نہ ہی فائر فائٹنگ کی تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے۔ یہی صورتحال شہباز بلڈنگ اور دیگر سرکاری عمارتوں کی بھی بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سرکاری عمارتوں میں بنیادی حفاظتی انتظامات موجود نہیں تو نجی اور کمرشل عمارتوں کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جہاں کسی بھی وقت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ SBCA کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ سِوک سینٹر میں واقع اپنی عمارت سمیت آج تک کسی بھی سرکاری عمارت میں فائر سیفٹی سے متعلق کوئی عملی اقدام نظر نہیں آیا، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔عوامی اور سماجی حلقوں نے حکومتِ سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہر کی تمام سرکاری و نجی عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر فوری طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔


