میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ،فیڈرل بی ایریا غیرقانونی عمارتوں کے جنگل میں بدلنے لگا

سندھ بلڈنگ،فیڈرل بی ایریا غیرقانونی عمارتوں کے جنگل میں بدلنے لگا

ویب ڈیسک
منگل, ۲۵ نومبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

پلاٹ C-26اور C-10پر بے لگام تعمیرات ، بائی لاز اور نگرانی سب روند دیے گئے
ڈائریکٹر ایس بی سی اے جعفر امام صدیقی کی چشم پوشی، انتظامی بدعنوانی سے شکوک گہرے

وسطی کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 10میں پلاٹ نمبر C-26اور C-10 پر تیزی سے کھڑی کی جانے والی بلند و بالا، بے قابو تعمیرات نے پورے علاقے کی فضاء کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ تعمیراتی مافیا نے قانون کو روندتے ہوئے جس ڈھٹائی سے غیر قانونی تعمیرات جاری رکھی ہوئی ہیں، اس نے شہریوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کے مطابق ان عمارتوں پر جاری کام کسی بھی قانونی اجازت، نقشے کی وضاحت اور آفیشل نگرانی سے بالکل عاری دکھائی دیتا ہے ۔ نہ پارکنگ کا کوئی تصور، نہ اسٹرکچر کی منظوری، نہ بائی لاز کی پاسداری بس طاقت، اثرورسوخ اور پیسے کا بے دریغ استعمال!مکینوں نے اس صورتحال کو قانون کا سرِعام قتل قرار دیا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی مبینہ چشم پوشی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بلڈر مافیا کو کہیں نہ کہیں سے مضبوط پشت پناہی حاصل ہے ۔ متعدد شکایات کے باوجود ایس بی سی اے کی طرف سے مکمل خاموشی، عدم دلچسپی اور عدم کارروائی نے شکوک کو حقیقت کا رنگ دینا شروع کر دیا ہے ۔مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ انتظامی اداروں کی یہ بے حسی نہ صرف شہر کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے بلکہ بدعنوانی کے مضبوط نیٹ ورک کی بھی نشان دہی کرتی ہے ۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تعمیرات کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیا جائے، ورنہ پورا علاقہ ناقابلِ رہائش بننے میں دیر نہیں لگے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں