ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری
شیئر کریں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
جب ایران کے صدر مسعود پیزشکیان اس ماہ بہت مختصر مد ت کیلئے عوام کے سامنے آئے تاکہ اسرائیل مخالف ریلی پر شہریوں کو مبارک باد دیں تو اس کے خاندان کا ایک رکن بھی وہاں موجود تھا۔صدر کا 44 سالہ بیٹا یوسف جو ان کے مشیر بھی ہیں،نے اپنے والد کو نہ تو دیکھا ہے ، نہ ہی بات کی ہے جب سے اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا جس کے بعد ملک کی قیادت زمین دوز چلی گئی۔وہ ان کی ایک جھلک دیکھنے کی امید کر رہا تھا۔ وہ ایک ٹیلی گرام چینل پر ڈائری لکھ رہا تھا۔اس نے افسوس کا اظہار کیا جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔بیٹے کے پاس فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے ۔ وہ ایک کالج میں پروفیسر ہے۔اس نے روزانہ جنگ کی ڈائری کی لکھی ہے جس میں ذاتی اور سیاسی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ڈائری میں اس بات کی جھلک نظر آتی ہے کہ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، ایران کی سیاسی شخصیات کیامحسوس کررہی ہیں۔ حالانکہ ایران کے رہنما پبلک بیانات میں جرأت آمیز مدافعت کو اجاگر کرتے ہیں، یوسف پیزشکیان دکھاوے کے پیچھے خوف کے بارے میں لکھتاہے جب کئی رہنمائوں کو اسرائیلی بمباری میںہدف بنایا جارہا اور ہلاک کیا جارہا ہے۔اس نے مارچ کے اوائل میں جنگ کے چھٹے روز لکھا کہ میرے خیال میں بعض سیاسی شخصیتیں خوفزدہ ہیں جبکہ ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما کے مقابلے میں عوام زیادہ مضبوط اور جلد بحال ہونے کی زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ کو برابر یاد دلانا ہوگا کہ شکست صرف اسی وقت ہوگی جب ہم شکست محسوس کریں گے۔وہ اپنے والد کے بارے میں پریشان ہے اور کہا کہ وہ اور اس کے دو بھائی صدارت کے باقی دو سال ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے تاکہ ہم سب واپس معمول کی زندگی گزار سکیں۔جیسا کہ ایران جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے،اس کے پے درپے رہنما قتل ہو چکے ہیں۔جو باقی رہ گئے ہیں،وہ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے ہیں۔ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے اب تک سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کردیا ہے اور ان کی اعلیٰ فوجی کمان کا صفایا کر دیا ہے۔سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ اور ایران کے اصل حکمران علی لاریجانی اور وزارت انٹیلی جنس کے سربراہ اسمٰعیل کا بھی خاتمہ کردیا۔
یوسف پیزشکیان نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ حکام کی زندگیوں کا تحفظ ملک کیلئے نمبر ایک ترجیح بن چکا ہے۔ ٹارگٹڈ کلنگ اب ایک اعزاز ہے۔ اس نے جنگ کے پہلے ہفتے میں سرکاری حکام کے ساتھ ایک اجلاس کا حال بیان کیا ہے جس میں لائحہ عمل کے بارے میں اختلافات سامنے آئے۔سب سے بڑا اختلاف یہ ہے۔ہمیں کب تک لڑنا ہے؟ ہمیشہ کیلئے؟ جب تک اسرائیل تباہ نہیں ہوجاتا اور امریکہ پسپا نہیں ہو جاتا؟ جب تک ایران مکمل طور پرتباہ نہیں ہو جاتا اور ہم ہتھیار نہیں ڈالتے؟ ہمیں مختلف منظر نامے کا بغور جائزہ لینا ہے۔اپنی ڈائریوں میں یوسف پیزشکیان کا کہنا ہے کہ اسے جنگ کے بارے میں پیغامات ملتے رہتے ہیں،نہ صرف دوستوں اور جان پہچان والوں سے بلکہ اجنبیوں سے بھی۔اس کا کہنا ہے کہ کبھی کبھارپیغامات میں ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہتھیار ڈال کر اقتدار لوگوں کے حوالے کردیا جائے۔ اس تصور کو اس نے بے خبری اور واہمہ قرار دیا۔اس کا کہنا ہے کہ وہ پریشان ہے کہ امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کا عرب ممالک پر حملوں کا اثر الٹا ہو سکتا ہے۔یہ بہت افسوسناک ہے کہ ہمیں اپنے دفاع کیلئے دوست ممالک میں امریکی اڈوں پر حملہ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ہماری صورتحال کو سمجھیں گے یا نہیں۔
یوسف پیزشکیان نے اپنے والد کادفاع کیا جب انہوں نے 7 مارچ کو ایک ویڈیو پیغام میں حملوں کے بارے میں عرب ممالک سے معذرت کی کہ وہ رک جائیں گے۔قدامت پسندوں اور فوجی کمانڈرز نے معذرت کاغصہ سے بھرپور ردعمل ظاہر کیا اور حملے روکنے کا صدر کے وعدہ کو گھنٹوں کے اندر منسوخ کردیا۔یوسف پیزشکیان نے لکھا کہ پڑوسیوں سے معذرت کرنا اخلاقی فرض ہے،قانونی نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں عرب ممالک میں رہنے والے عوام کا قصور نہیں اور یہ کہ ان کی زندگیاںجنگ سے تہ و بالا ہوگئی ہیں۔تین اعلیٰ ایرانی حکا م کے مطابق اعلیٰ عہدیداروں کو ان کے خفیہ مقامات پر ڈھونڈ نکالنے نے ایران کے رہنمائوں کو حواس باختہ کر دیا ہے اور تشویش پیدا کردی ہے کہ آئندہ کس کی باری ہے اور کس طرح نقصانات کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔
ایران سے جنگ۔ جلد فتوحات کا نتیجہ
ٹرمپ جلد فتوحات کے نشے میں ایران سے جنگ میں داخل ہوا۔جون میں ایران کے تین بڑے ایٹمی مقامات پر بمباری ایک شام کی مہم تھی جس نے ملک کے ایٹمی ذخیرہ کو دفن کردیا اور اس کے ہزاروں centrifuges کا صفایا کردیا جو یورینیم کوبہتر بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔اسی طرح وینزویلا کے نکولس ماڈورو کی کاراکس میں اس کے بیڈ سے گرفتاری کیلئے کمانڈو کاحملہ بھی تیز رفتاری کا تھا اور اب تک ٹرمپ نے وہاں جو حکومت چھوڑی ہے ،وہ تابعدار ہے۔شایدان جلد نتائج نے ٹرمپ کی حوصلہ افزائی کی اور وہ یقین کر بیٹھے کہ امریکی فوج بہت ہی طاقتور ہے اور یہ کہ مذہبی رہنما،جرنیل اور ملیشیا جو 9کروڑ20 لاکھ عوام کے ایران کا نظام چلاتے ہیں،ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔اس لئے وہ تیزی سے آگے بڑھے۔ یہ امر واضح ہے کہ ایران ایک مختلف قسم کا چیلنج ہے۔ٹرمپ نے لفظ ‘تفریح ‘کا استعمال کرنا شروع کردیا یہ بتانے کیلئے کہ یہ ایک مختصر سفر ہے اور مختصر مدت کادل بہلاوا ہے۔لیکن اس کا حقیقی خاتمہ نظر نہیں آتا۔
٭٭٭


