
کسانوں کے خلاف مودی سرکار کی بربریت
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
فروری 2024 میں شروع ہونے والا کسان دھرنا اب ایک بڑی مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مودی سرکار کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔پنجاب حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود، کسانوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک بھارتی حکومت کے جبر کے خلاف ایک بڑی مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔
بھارتی حکومت نے پنجاب میں کسانوں کے احتجاجی کیمپوں پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سیکڑوں کسانوں کو حراست میں لے لیا اور ان کے کیمپوں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا۔کسان گزشتہ سال فروری سے ہریانہ اور پنجاب کی سرحد پر دھرنا دیے ہوئے تھے اور نئی دہلی کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر پولیس نے انہیں روکا تھا۔ اس کارروائی میں کسانوں نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی، اور وہ خود بسوں میں سوار ہو کر روانہ ہوئے۔بھارتی ریاست پنجاب اور ہریانہ میں کسانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، مگر کسان اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ حالیہ کارروائی میں پنجاب پولیس نے کسان رہنما جگجیت سنگھ دلیوال، سروان سنگھ اور دیگر کئی مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
کسان رہنما چندی گڑھ میں حکومت سے مذاکرات کے بعد واپس جا رہے تھے جب موہالی کے مقام پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ دوسری جانب، کھنوری بارڈر پر کسانوں کے احتجاجی کیمپ کو بلڈوز کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے شمبو کھنوری بارڈر سے متعدد کسانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا۔پولیس نے کسانوں کو بسوں میں زبردستی دھکیل دیا، ان کی پگڑیاں اچھالیں، اور ایمبولینس میں موجود کسان رہنما کو حراست میں لے لیا۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنما کلونت سنگھ نے الزام لگایا کہ پولیس نے بزرگ کسانوں کو باہر نکلنے کا موقع تک نہیں دیا اور ان کے ٹریکٹر اور سامان وہیں چھوڑنے پر مجبور کیا۔
دہلی چلو مارچ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں، مودی سرکار جارحانہ پالیساں لاگو کرکے انصاف کا قتل کر رہی ہے۔بھارتی کسان رہنما راکش ٹکیت نے حکومت کی دوہری پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت مذاکرات کا دعویٰ کر رہی ہے اور دوسری طرف کسانوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔ پنجاب کی حکومتی پارٹی (آپ) نے کسانوں کے مطالبات کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے احتجاج کے طریقہ کار پر اعتراض کیا ہے۔یاد رہے کہ 2021 میں مودی حکومت کو کسانوں کے بڑے احتجاج کے بعد زرعی قوانین واپس لینے پڑے تھے، اور اب ایک مرتبہ پھر بی جے پی حکومت کسانوں کے احتجاج کے دباؤ کا شکار ہے۔
یہ کسان جو طویل عرصے سے بھارتی حکومت کی بے حسی اور بربریت کا شکار ہیں ،اب بھوک ہڑتال پر مجبور ہیں کیونکہ ان کی پرامن اپیلوں سے حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ بی جے پی حکومت ان کی حالت زار کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔احتجاج میں شدت پولیس کے مسلسل جبر اور بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آئی ہے جس کے بارے میں کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ سکھ برادری کو نقصان پہنچانا اور پنجاب کی ثقافتی شناخت کو مٹانا چاہتی ہے۔پنجاب کے کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز کیے جانے کے بعد ان کی جدوجہد بقاء کی جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ بھوک ہڑتال تادم مرگ مودی انتظامیہ کی طرف سے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف انتہائی اقدام ہے، جس پر کسانوں کا الزام ہے کہ وہ بھارت کو جمہوریت سے آمریت میں تبدیل کر رہی ہے۔
پنجاب اور ہریانہ کے کسان گزشتہ سال 13 فروری سے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور کسانوں کی ایک تنظیم ‘سمیوکت کسان مورچہ’ (ایس کے ایم، غیر سیاسی) کے سربراہ جگجیت سنگھ ڈلیوال کھنوری میں گزشتہ سال 26 نومبر سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اس درمیان بارہا ان کی صحت خراب ہوئی۔سپریم کورٹ نے ڈلیوال کی صحت کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے گزشتہ دنوں ان سے ملاقات کی تھی۔ اس نے ‘آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (ایمس) کے ڈاکٹرز کی بھی ایک کمیٹی بنائی ہے۔
کسانوں کی تنظیمیں اور حکومت کے مابین اب تک مذاکرات کے متعدد دور ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک اس کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں۔کسانوں نے اپنے مطالبات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک تو اپنے تحفے میں دیے جانے والے قانون واپس لے۔ دوسرا یہ کہ جو کسانوں کی جانب سے مانگا جا رہا ہے وہ بلا مشروط طور پر کسانوں کو فراہم کر دیا جائے۔ یعنی کہ کسانوں کو ان کی کاشتہ فصلوں پر اس کا جائز قانونی حق کو برقرار رکھا جائے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے اب تک کسانوں کے ان مطالبات کو منظور کرنے کی بجائے صرف اپنے منظور شدہ قانون یعنی ‘ایسنشل کموڈیٹیز ایکٹ 2020ء ‘ کی وضاحت ہی پیش کی جاتی رہی ہے، لیکن کسانوں کے چند واضح نکات ہیں کہ حکومتی قانون میں لکھا جائے کہ کسان کو اس کی طے کردہ کم سے کم رقم دی جائے گی، جو کہ لازمی ہوگا اور دونوں فریقین پر یکساں نافذ ہو گا۔