وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت
شیئر کریں
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا
بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ روز میں کیسے بنتا ہے،گورنر ہائوس میںکراچی کانفرنس پر ناراضی کا اظہار
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کراچی کی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی اور فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار کیاہے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں صدر آصف زرداری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کی سخت سرزنش کی جبکہ وزیراعلی سندھ اور میئر کراچی کو اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔صدرمملکت نے کراچی کا دیگر شہروں خصوصا لاہور سے موازنہ اور میڈیا تنقید پر شدید ناراضی ظاہر کی۔صدر زرداری نے سوال کیا کہ بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، تین ماہ کے اندر عوامی شکایات میں واضح کمی اور زمینی سطح پر فرق نظر آنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ روز میں کیسے بنتا ہے، مجھے کراچی میں اسلام آباد کی طرح کی سڑکیں چاہیئیں، ترقیاتی کاموں میں تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔اجلاس میں گورنر ہائوس میں ہونے والی کراچی کانفرنس پر بھی ناراضی کا اظہار کیا گیا اور گورنر کی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق نئے صوبے سے متعلق کسی بھی بحث کو مسترد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں گے اور کارکردگی کی سخت نگرانی کی جائے گی۔


