سندھ بلڈنگ ،اللہ والا ٹاؤن میں رہائشی پلاٹوں پر تجارتی تعمیرات
شیئر کریں
سمیع جلبانی اور کاشف تعمیراتی خلاف ورزیوں میں ملوث ، شہریوں کا احتجاج
آر 741پر کمزور بنیادوں کی پرانی عمارت پر بالائی منزلیں تعمیر،عوام بے چین
ضلع کورنگی میں واقع اللہ والا ٹاؤن کے مختلف حصوں میں رہائشی زون میں تجارتی تعمیرات کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں مبینہ طور پر محکمانہ سرپرستی بھی شامل ہے ۔مقامی رہائشیوں کے مطابق، متعدد سیکٹرز میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹ اور دکانوں کی تعمیرات بلڈنگ قوانین کی صریح خلاف ہونے کے باوجود دن کے اجالے میں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کورنگی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے خلاف شکایات سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے اپنے فرائض سے چشم پوشی کرتے ہوئے ان خلاف ورزیوں کو فروغ دیا ہے ۔اتھارٹی کے حکام کے خلاف الزام ہے کہ وہ تعمیراتی خلاف ورزیوں کے باوجود کارروائی نہیں کر رہے ، جس کی وجہ سے علاقے میں تعمیراتی مافیا کے حوصلے بلند ہیں۔زمینی حقائق کے مطابق اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31B میں رہائشی پلاٹ نمبر R741 کمزور بنیادوں کی پرانی عمارت پر بالائی منزلوں کی خلاف ضابطہ کمرشل تعمیر زوروں پر ہے ۔ انتظامیہ کی ملی بھگت سے درجنوں مشترکہ پلاٹوں کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار تحریری درخواستیں اتھارٹی میں جمع کروائیں مگر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔محکمے کے ذرائع کے مطابق انسپکٹر کاشف علی کی مبینہ سرگرمیوں سے متعلق ڈائریکٹر سمیع جلبانی کو آگاہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ مقامی رہائشی ڈاکٹر عمران فاروق کا کہنا ہے کہ ان تعمیرات کی وجہ سے علاقے میں نکاسی آب کا نظام متاثر ہو رہا ہے اور سڑکیں تنگ ہو گئی ہیں جس سے ہنگامی حالات میں خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ کورنگی سٹیزنز فورم کے عہدیدار عمران رضا کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اس میں ملوث تمام عناصر کے خلاف کارروائی کی جا سکے ۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کو فوری معطل کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو منہدم کیا جائے ۔


