میگزین

Magazine
تازہ ترین : عمران خان کی حکومت ہٹانے سے متعلق سائفر امریکی میڈیا میں ہی افشا ہو گیا اسرائیلی فوج نے فلسطینی خواتین کے مردہ جسموں سے اعضا تک نکالے، ہولناک انکشافات ایم کیو ایم اور وفاقی وزراء کے کراچی سے متعلق بیانات، وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا جائے، سندھ حکومت کا پی پی قیادت سے مطالبہ ہم اس لیے نہیں جھکتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں، جنگ اور جوہری مذاکرات پر دھمکی، ایران کا امریکا کومنہ توڑجواب کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ناقابلِ قبول ، مراد علی شاہ اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں کے الیکٹرک نے گل پلازہ کے بیسمنٹ میں بارود کا ڈھیر لگا رکھا تھا،ایم کیو ایم سندھ بلڈنگ، اللہ والا ٹاؤن میں غیرقانونی تعمیرات پر عوام پریشان حکومت کی بدترین نااہلی، 76 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کھٹائی میں پڑ گئی

ای پیج

e-Paper
اسرائیلی فوج نے فلسطینی خواتین کے مردہ جسموں سے اعضا تک نکالے، ہولناک انکشافات

اسرائیلی فوج نے فلسطینی خواتین کے مردہ جسموں سے اعضا تک نکالے، ہولناک انکشافات

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۵ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسرائیل سے ریڈ کراس کے ذریعے فلسطینیوں کی تشدد زدہ لاشیں الشفا اسپتال بھیجوائی گئی تھیں

اسپتال کو خواتین کی لاشیں بھی موصول ہوئیں جن کے اعضا پہلے ہی نکال لیے گئے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غزہ کے اسپتال بھیجوائی گئیں فلسطینی خواتین کی لاشوں سے اعضا غائب تھے۔

فلسطین میں ڈھائے جانے والے ان مظالم کے حقائق برطانوی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کاربن سامنے لائے ہیں، جو اب تک دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھے گئے تھے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جیریمی کاربن نے ایک حالیہ ویڈیو میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں ہلاک ہونے والی خواتین کے جسموں کو کھولا اور اعضا نکالے۔

جیریمی کاربن جو اپنی جماعت لیبر پارٹی کو چھوڑ چکے ہیں اور اب ایک آزاد رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انھوں نے غزہ کے الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر سے بات کی۔

اسپتال کے ڈائریکٹر نے جیریمی کاربن کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے 60 یا 70 میتیں بھیجی تھیں جو بکسوں میں بند تھیں۔

جب ان بکسوں کو کھولا گیا تو ہر ایک میں ایک فلسطینی کی کھوپڑی پڑی تھی جب کہ باقی اعضا غائب تھے۔

اس کے علاوہ اسپتال کو خواتین کی لاشیں بھی موصول ہوئیں جن کے اعضا پہلے ہی نکال لیے گئے تھے۔

جیریمی کاربن نے کہا کہ یہی کچھ فلسطینی عوام کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔ یہ ہمارے دور کاسنگین اور درد ناک المیہ ہے۔

یاد رہے کہ غزہ کا الشفا اسپتال حماس کے کنٹرول میں ہے جہاں سے اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2025 میں انخلا کیا تھا۔

تب سے فلسطینیوں کی میتیں دفنانے کے لیے اسرائیل سے ریڈ کراس کے ذریعے الشفا اسپتال بھیجی جاتی ہیں اور ایسا آخری بار 29 جنوری کو ہوا تھا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے حوالے کی گئی ان لاشوں پر بہیمانہ تشدد کے نشانات ہوتے ہیں۔ جسم کٹے پٹے اور اعضا غائب ہوتے ہیں۔

جیریمی کاربن کی یہ ویڈیو سب سے پہلے ویئر دا پیس نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی تھی جو اپنی آمدنی کا ایک حصہ مختلف انسانی ہمدردی کے کاموں میں عطیہ کرتا ہے۔

اسرائیل نے اس کے جواب میں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق جیریمی کاربن اور ویئر دا پیس کو ہی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

اسرائیلی فوج کے انٹرنیشنل ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ندّووشوشانی نے سوال کیا کہ حیران کن بلڈ لیبل پھیلانے سے پہلے حقائق کی جانچ کی گئی؟

انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی کے فوجی کئی مہینوں سے الشفاء ہسپتال کے قریب بھی نہیں گئے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہمارا دور حقائق کی دوبارہ جانچ کرنے کا ہے اور ایسے صحافیوں پر بھروسہ نہیں جو بے بنیاد کہانیاں پھیلاتے ہیں۔

ان کے بقول اسرائیلی فوج بین الاقوامی قانون اور داخلی قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرتی ہے جو اس طرح کے عمل کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فلسطینیوں کی میتوں کی واپسی بین الاقوامی رابطے اور ریڈ کراس کی مدد سے کی جاتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں