میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جب تک26ویں ترمیم کیخلاف فیصلہ نہیں آتا یہ درست ہے، جسٹس امین الدین

جب تک26ویں ترمیم کیخلاف فیصلہ نہیں آتا یہ درست ہے، جسٹس امین الدین

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

وکلاء بحث کے آخر پرآکرکہتے ہیں 26ویں ترمیم کوسائیڈ پررکھ دیں ، یہ میرے لئے حیران کن ہے، کیایہ دلائل یہاں پر ہوں گے
ہم صرف یہ کہنا چاہ رہے ہیں کیا بینچ خواہشات کے مطابق بنے گایاقانون کے مطابق بنے گا، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس

سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیٔے ہیں کہ وکلاء بحث کے آخر پرآکرکہتے ہیں 26ویں ترمیم کوسائیڈ پررکھ دیں ، یہ میرے لئے حیران کن ہے، کیایہ دلائل یہاں پر ہوں گے۔ جب تک ترمیم کے خلاف فیصلہ نہیں آتا یہ ترمیم درست ہے۔ جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیٔے ہیں کہ ہم صرف یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کیا بینچ خواہشات کے مطابق بنے گایاقانون کے مطابق بنے گا۔ 191فرسٹ امپریشن کاکیس ہے اس لئے اسے بار، باردیکھنا پڑے گا۔ پارلیمنٹ کا ترمیم کااختیارہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ترمیم آئینی ہے یاغیر آئینی۔ جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیٔے ہیں کہ ہم آئینی ترمیم کوکالعدم قراردے سکتے ہیں یہ آرٹیکل 191-Aکے تحت ہمارادائرہ اختیار ہے،اگر ہمارادائرہ اختیار نہیں توہم یہ کیس نہیں سنیں گے، یہ فرسٹ امپریشن کاکیس ہے ، یہ ملک میں ملک طور پر منفرد صورتحال ہے۔ کیا 31 اکتوبر 2024 والی کمیٹی کو ایسا کوئی اختیار حاصل تھا کہ وہ فل کورٹ کی تشکیل کا فیصلہ کر سکتی تھی یا نہیں ہم نے یہ دیکھنا ہے، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ آئین کے مطابق کمیٹی کا فیصلہ ہم سب پر ماننا لازم ہے کہ نہیں۔ یہ فرسٹ امپریشن کاکیس ہے،اس انداز میں آئینی ترمیم کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو دوشاخوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، ایسا پہلی مرتبہ کیا گیا ہے، ایک بینچ جو کہ آرٹیکل 191-Aکے تحت بنا ہے اسی بینچ کوکہہ رہے ہیں آرٹیکل 191-Aکونظرانداز کردیں اور آگے بڑھے ہو ئے فل کورٹ یا جو بھی کہیں تشکیل دیں، یہ مشکل ہے اس لئے ہم کئی دنوں سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔ اگر ہم فل کورٹ کاحکم جاری کریں توکیا آرٹیکل 191-A-3کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔جبکہ جسٹس عائشہ اے ملک نے ریمارکس دیٔے ہیں کہ آرٹیکل 191باقی سپریم کورٹ کااختیار ختم نہیں کرتا، دائرہ اختیارسپریم کورٹ کاہے، آرٹیکل 191-Aکہتا ہے کہ آئینی بینچ سپریم کورٹ کادائرہ اختیار استعمال کرے گا، دائرہ اختیار کسی مخصوص بینچ کے پاس نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے پاس ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں