
لاہورہائیکورٹ پروکیلوں کا حملہ!سینئر وکلا ء معاملہ سنبھالیں!
شیئر کریں
ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر شیرزمان کے خلاف توہین عدالت کے کیس میںشیرزمان کی گرفتاری کے احکام پر گزشتہ روز وکلا آپے سے باہر ہوگئے ،اس طرح نواز شریف اور ان کے رفقا کی جانب سے گزشتہ کچھ دنوں سے عدالتوں کے خلاف عوام کو اُکسانے اور عدالتوں پر دھاوا بولنے کی ترغیب دینے کاجو سلسلہ شروع کیاگیا اس پر پاکستان کے عوام کی اکثریت نے تو کوئی توجہ نہیں دی اور ن لیگ والے خود بھی سپریم کورٹ پر زبانی حملے کرتے رہ گئے، لیکن لاہور کے وکلا نے لاہور ہائی کورٹ پر عملی طور پر حملہ کر کے سبقت حاصل کر لی۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی زیر سرکردگی فل بنچ نے ملتان میں عدالت عالیہ کے سینئر جج کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر شیرزمان کے خلاف توہین عدالت کے کیس میں بلاضمانت گرفتاری اور اسے لاہور میں پیش کیے جانے کا حکم صادر کیاتھا۔ شیر زمان نے اس سے پہلے طلب کیے جانے پر پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ فاضل عدالت کا حکم سنتے ہی عدالت کے احاطہ میں موجود تقریباً 100 وکلا مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے عدالت عالیہ کے خلاف شدید نعرے لگاتے ہوئے پتھرائو شروع کر دیا۔ حملہ کر کے ہائی کورٹ کا مرکزی اندرونی گیٹ توڑ دیا، واک تھرو گیٹ اٹھا کر دور پھینک دیا اور چیف جسٹس کے چیمبر پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے مگر پولیس اور رینجرز نے انہیں روک دیا۔ اس پر وکلاء اچھی خاصی تعداد میں ہائی کورٹ سے باہر نکل آئے اور مال روڈ پر ٹریفک بلاک کر دی۔ اس سے قبل سابق سماعت پر بھی وکلا کے ایک گروہ نے چیف جسٹس کی عدالت اور چیمبر میں جمع ہو کر ججوں کو گالیاں دی تھیں اور نعرے لگائے تھے۔
یہ مختصر روداد ہے اس رویے کی جو ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے بارے میں ایک عرصے سے سیاسی رہنمائوں نے اپنا رکھا ہے۔ یہ سلسلہ نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ پر حملے کے واقعے کے بعد سے شروع ہوا ہے جس کے بعد وکلا کی جانب سے کئی مرتبہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی اور بدزبانی کے واقعات بھی سامنے آتے رہے۔ دراصل ن لیگ نے عدالتوں پر زبانی و عملی حملے کرنے کو پیشہ کے طور پر اختیار کر لیا ہے۔ 1997میں باقاعدہ سپریم کورٹ پر حملہ کیا اور وزیراعظم نوازشریف کو عدالت کے روبرو پیش ہو کر معافی مانگنی پڑی۔ اب تک یہ سلسلہ زبانی حد تک تھا مگر وکلا سبقت لے گئے! یہ محض الزا م نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ وکلا کو عدالتوں کے ساتھ بدسلوکی اور ان پر حملے کرنے کی طرف ملک کے سیاست دانوں نے ہی رہنمائی کی ہے۔ ماضی بعید میں تو جو کچھ ہوا مگر ماضی قریب میں ن لیگ کے لائوڈ اسپیکروں نے سیدھے سیدھے سپریم کورٹ اور اس کے اقدامات اور فیصلوں پر کھلم کھلا گالی گلوچ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ ایک مشغلے کے طور پر پورے معاشرے میں سرائیت کرتا جا رہا ہے۔ وکیل تو کافی عرصے سے پولیس، عدالتوں کے عملے حتیٰ کہ سیشن اور سول عدالتوں میں ججوں کے چیمبروں پر چڑھائی کرنے کی وارداتیں کرتے رہے ہیںمگر ان کا یہ مشغلہ اب براہ راست ہائی کورٹ پر حملے کی شکل احتیار کر گیا۔
ہے! یہ لاقانونیت کا بدترین پہلو ہے۔ سوال یہ ہے کہ عدالتیں باقی نہیں رہیں گی تو باقی کیا رہ جائے گا؟ بدقسمتی یہ ہے کہ جو عظیم ملک دو عظیم قانون دانوں، علامہ اقبال اور قائداعظم کی سوچ اور عمل کے ذریعے وجود میں آیا اسے موجودہ دور کے بعض قانون دان ہی کسی خطرناک انجام کی طرف لے جا رہے ہیں۔تاہم اس معاملے میں یہ بات خوش آئند ہے کہ یہ ساری ہنگامہ آرائی ایک محدود سطح والے وکلا کر رہے ہیںجبکہ ملک بھر میں وکلا حضرات کی بھاری تعداد نہایت پرامن، قانون پسند سلجھے ہوئے مدبر، متحمل مزاج اور ٹھنڈے ذہنوں والی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک میں قانون، عدل و انصاف اور جمہوریت کو سربلند رکھنے میں وکلا حضرات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون کے پیشہ سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ حضرات آگے آئیں اور بنچ اور بار کے تعلقات کو خوش گوار بنانے اور برقرار رکھنے میں مدد دیں۔ وکلا کے ایک گروپ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی کردار کشی کی کوششیں اور ان کو عوام کی نظر وں سے گرانے کے لیے ان کے بینک اکائونٹس اور قرضوں کی تفصیلات منظر عام پر لانے کی کوششوں سے عدلیہ سے محاذ آرائی کے درپے وکلا کے کسی کام نہیں آئے گی اور دوسروں کو گندا کرنے کی کوششوں میں خود ان کے چہرے بھی چھینٹوں سے نہں بچ سکیں گے۔
موجودہ صورت حال کاتقاضا ہے کہ سنجیدہ طرز فکر رکھنے والے سینئر وکلا سامنے آئیں اور عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی اور ججوں کے ساتھ آمادہ پیکار وکلا کو راہ راست اختیار کرنے کامشورہ دیں ، عدلیہ اور ججوں سے محاذ آرائی سے وکلا برادری مزید گروپوں میں تقسیم ہوگی اور اس طرح ان کا طاقت کا بھر م بھی ٹوٹ کر رہ جائے گا اس کے علاوہ اس سے عوام میں بھی ان کی رہی سہی ساکھ بھی مٹی میں مل جائے گی۔
امید کی جاتی ہے کہ سینئر وکلاء اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور عدلیہ اور خود وکلا برادری کی ساتھ بچانے کے لیے فوری کوششیں شروع کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
٭٭…٭٭