مودی کی دوغلی پالیسیاں،بھارت کو بدترین گیس بحران میں دھکیل دیا
شیئر کریں
غلط ترجیحات اور ناقص منصوبہ بندی نے بھارتی عوام کو گیس کی بوند بوند کے لیے ترسا دیا
بھارت میں گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ،مودی حکومت کڑی تنقید کا نشانہ
معروف برطانوی جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘ نے بھارت میں توانائی کے بڑھتے ہوئے سنگین بحران پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ غلط ترجیحات اور ناقص منصوبہ بندی نے بھارتی عوام کو گیس کی بوند بوند کے لیے ترسا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت میں گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے ملک کے صنعتی اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔بھارت میں گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، جس کے نتیجے میں زراعت پر منحصر بھارتی معیشت کے لیے کھاد کی فیکٹریوں کی بندش ایک بڑا دھچکا ثابت ہو رہی ہے۔ توانائی کی قیمتیں برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے ہزاروں ریسٹورنٹس اور گیس پر چلنے والے چھوٹے کارخانے اپنی سرگرمیاں ختم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔دی اکانومسٹ کے مطابق، مودی سرکار کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بھارتی شہری گیس سلنڈر کے حصول کے لیے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ شہروں میں گیس اسٹیشنز کے باہر کلومیٹر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں، جہاں عوام گھنٹوں انتظار کے بعد بھی خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں۔جریدے نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ مودی حکومت کی توانائی کی پالیسیاں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بروقت عالمی منڈی سے معاہدے نہ کرنے اور مقامی پیداوار میں ناکامی نے عوام کو اس دلدل میں دھکیلا ہے۔ دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت میں گیس کا بحران صرف قیمتوں کا اضافہ نہیں بلکہ مودی سرکار کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے عام آدمی کا چولہا ٹھنڈا کر دیا ہے۔


