میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

ویب ڈیسک
منگل, ۲۴ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمد آصف

گزشتہ پچیس دنوں سے جاری طاقت ، سفاکیت، اور ظلم و بربریت سے تہران کی سڑکیں اشکبار ہیں، لیکن ان آنسوؤں میں مایوسی نہیں، بلکہ ایک ایسا غضب اور عزم چھپا ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں دبا سکتی۔ایران نے آج اپنے تین عظیم اور طاقتور ترین سپوتوں کو سپردِ خاک کیا ہے ۔ اور ان جنازوں کے فوراً بعد، ایک ایسی مظلوم قوم جسے غاصبوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے ، اس نے وہ حتمی انتباہ جاری کر دیا ہے جس نے پوری عالمی معیشت اور خلیج کی نیندیں اڑا دی ہیں”اگر ہمارے خلاف یہ ریاستی دہشت گردی نہ رکی، تو پوری خلیج راکھ کا ڈھیر بن جائے گی”!ایرانی مسلح افواج کے ترجمان، ابراہیم زلفقاری نے انتہائی واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی انرجی تنصیبات پر غاصبانہ حملے جاری رہے ، تو سعودی آرامکو (Aramco) کی ریفائنریاں، یو اے ای کی بندرگاہیں اور قطر کا نارتھ فیلڈ راکھ کر دیے جائیں گے ۔
ذرا تصور کریں، یہ انتباہ کس وقت آیا ہے ؟ جب تہران میں علی لاریجانی اور بسیج کمانڈر غلام رضا سلیمانی کے جنازوں میں لاکھوں لوگ سینہ کوبی کر رہے ہیں، جب وزیرِ اطلاعات اسماعیل خطیب کی شہادت کی باضابطہ تصدیق ہو چکی ہے ، اور جب خارگ آئی لینڈ پر ظالمانہ بمباری کی وجہ سے ایران کی اپنی 65 فیصد گیس پروڈکشن بند پڑی ہے ۔ جو قوم اپنی 65 فیصد گیس کھو چکی ہو اور ایک ہی ہفتے میں اپنے اہم ترین رہنماؤں کے جنازے اٹھا رہی ہو، وہ یہ انتباہ طاقت کے زعم میں نہیں دے رہی بلکہ اس مقام سے دے رہی ہے جہاں اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی غیور قوم کو اس حد تک پہنچا دیا جائے تو وہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ۔ وہ حکمتِ عملی جو جنازوں کی محتاج نہیں! دشمن کا خیال تھا کہ وہ لیڈرز کو شہید کر کے ، انفراسٹرکچر جلا کر اور فوج کو نقصان پہنچا کر اس قوم کو جھکا دے گا، لیکن وہ ایران کی”موزیک ڈاکٹرائن”کی طاقت کو نہیں سمجھ سکے ۔ ایران کی 31 صوبائی کمانڈز کو لڑنے کے لیے نہ خارگ کی گیس کی ضرورت ہے اور نہ ہی مرکزی احکامات کی؛ انہیں صرف ریڈیو ہینڈ سیٹس اور ان”بند لفافوں”(Sealed Orders) کی ضرورت ہے جو شہداء نے اسی برے وقت کے لیے لکھ کر رکھے تھے ۔ لیڈرز کو شہید کر کے دشمن نے دراصل اس ادارہ جاتی تحمل کو ختم کر دیا ہے جو یہ رہنما دکھا رہے تھے ، اب کمانڈرز آزاد ہیں اور یہ راکھ کر دینے کی دھمکی اسی آزادی کا نتیجہ ہے ۔وہ وار جو خلیج کی معیشت جلا دے گا! خلیجی ممالک کا ایئر ڈیفنس اس وقت 90 سے 96 فیصد میزائل اور ڈرونز گرا رہا ہے ، لیکن جنرل شکارچی اس ڈیفنس کو ہرانے کی بات نہیں کر رہے بلکہ اسے ”اوور ویلم”یعنی حد سے زیادہ بوجھ ڈالنے کی بات کر رہے ہیں۔ اگر پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اپنا بچا کھچا اسلحہ ملٹری ٹارگٹس کے بجائے براہِ راست تین ممالک کے انرجی انفراسٹرکچر کی طرف موڑ دے ، تو جو 4 سے 10 فیصد ڈرونز اور میزائل ڈیفنس کو چیر کر اپنے ہدف پر گریں گے ، ان کا نتیجہ صرف ہوائی اڈوں کی بندش نہیں ہوگا بلکہ ریفائنریوں کی آگ، LNG ٹرمینلز کی تباہی، اور پیٹرو کیمیکل انڈسٹری کا وہ صفایا ہوگا جسے دوبارہ بننے میں سالوں لگیں گے ۔ سعودی عرب کی پائپ لائن تو شاید محفوظ ہو، لیکن اسے فیڈ کرنے والی ریفائنریاں محفوظ نہیں ہیں، جبکہ یو اے ای اور قطر کی گیس فیلڈز نشانے پر ہیں۔ کل ہی IRGC نے سیٹلائٹ کے ذریعے ان تمام ٹارگٹس جیسے جبیل اور راس لفان کی تصاویر جاری کر کے ثابت کر دیا تھا کہ یہ محض نفسیاتی دباؤ نہیں بلکہ ان کی ہٹ لسٹ ہے ۔
سٹی بینک (Citi) نے پیش گوئی کی ہے کہ تیل (Brent) 110 سے 120 ڈالر تک جا سکتا ہے ، اور اگر مزید انفراسٹرکچر تباہ ہوا تو یہ 150 سے 200 ڈالر تک بھی پہنچ سکتا ہے ۔ ایران نے آج دنیا کو بتا دیا ہے کہ وہ انفراسٹرکچر تباہ ہونے والا ہے ۔ ایرانی حکام کی جانب سے توانائی کے مراکز سے متعلق سخت انتباہات نے خلیجی خطے میں تشویش کو بڑھا دیا ہے ۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ ایسے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کو اندرونی طور پر بھی بڑے نقصانات کا سامنا ہے ، جن میں توانائی کے شعبے کو متاثر ہونا اور اہم شخصیات کا نقصان شامل ہے ۔ ایسے حالات میں قوم کا ردِعمل زیادہ جذباتی اور سخت ہو جانا بعید از قیاس نہیں۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرح کے بیانات عالمی سطح پر خوف اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتے ہیں، کیونکہ خلیجی ممالک عالمی توانائی سپلائی کا ایک بڑا مرکز ہیں، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو عسکری حکمتِ عملی بھی ہے ، جس میں یہ تصور شامل ہے کہ کسی بھی ملک کا دفاعی نظام صرف مرکزی قیادت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے ۔ اسی سوچ کے تحت مختلف سطحوں پر کمانڈ اور کنٹرول کے نظام تیار کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل ممکن ہو سکے ۔ اس طرح کی حکمتِ عملی بظاہر مضبوطی کی علامت ہوتی ہے ، مگر اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے غیر متوقع ردِعمل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ مختلف سطحوں پر موجود افراد کو فوری فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے ۔ مان لیا کہ خلیجی ممالک کے دفاعی نظام جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور وہ بڑی حد تک ممکنہ خطرات کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر کسی بھی دفاعی نظام کی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر کسی تنازع میں شدت آ جائے اور حملوں کی تعداد بڑھ جائے تو صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے ۔ اسی لیے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے حالات میں تصادم کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے ، تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے ۔ معاشی پہلو سے دیکھا جائے تو اس طرح کی کشیدگی عالمی مارکیٹس پر فوری اثر ڈالتی ہے ۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، صنعتی پیداوار میں کمی، اور سپلائی چین میں خلل جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو دنیا بھر کے ممالک اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتا ہے ، جبکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید چیلنجز لے کر آتی ہے ۔
ایسے نازک حالات میں جذبات کے بجائے عقل اور حکمت کو ترجیح دی جائے ۔ جنگ اور تصادم کبھی بھی دیرپا حل نہیں ہوتے بلکہ یہ مزید تباہی اور نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین تحمل، دانشمندی اور سفارتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کو کم کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے ۔ کیا مسلم امہ کے دیگر ممالک ایران کی اس مظلومیت اور غاصبوں کے اس کھلے ظلم کے بعد جاگیں گے ، یا وہ صہیونیوں کو دودھ پلانے والی اپنی معیشت یعنی ریفائنریوں کو بچانے کے لیے خاموشی سے یہ تماشا دیکھتے رہیں گے ؟ وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ یکجا ہوکر امریکہ جو اسرائیل کو تحفظ دیتا ہے انہی خلیجی مسلم
ریاستوں کے پیسوں سے علاقے میں انہی کے حقیقی دشمن اسرائیل کو طاقت فراہم کرتا ہے اس سے جان چھڑوائیں اور آپس میں مکالمہ بات چیت سے مسائل حل کریں متحد ہوکر اصل دشمن اسرائیل کا زور توڑیں آپس میں تجارت کریں لین دین کریں مگر دشمن کو پہچاننے میں غلطی نہ کریں ۔ یہ دشمن تمہاری نسلوں کو ختم کرکے اپنے منصوبوں پر عمل کررہا ہے ۔ ہر طرف اُمت مسلمہ کو نشانے پر رکھا ہوا ہے سوچیں کل قبر میں
نبی پاکۖ کو ہمارے یہ مسلم حکمران کیا جواب دیں گے ۔ خدا کیلئے ہوش کریں ۔ ابھی وقت ہے سب نے حقیقت کو قریب سے دیکھ بھی لیا ہے ۔ اللہ ہمارے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو سمجھ بوجھ ، بصیرت اور صہیونی دشمن کے مقابلے میں متحد ہونے کی توفیق دے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں