میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ناقابلِ قبول ، مراد علی شاہ

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ناقابلِ قبول ، مراد علی شاہ

ویب ڈیسک
منگل, ۲۴ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

کراچی صوبے کی معاشی شہ رگ،وزیراعلیٰ کی زیرصدارت ترقیاتی اسکیموں پر اجلاس
شہر میں جاری 86.94ارب روپے کے منصوبوں کا جائرہ، رفتار تیز کرنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے ترقیاتی پورٹ فولیو برائے مالی سال 26-2025، مالیت 86.94 ارب روپے، کا جائزہ لینے کے لیے اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کی اور تمام عملدرآمد کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ منصوبوں کی رفتار تیز کی جائے، مالی وسائل کے استعمال کو بہتر بنایا جائے اور ترجیحی اسکیموں کو بروقت مکمل کیا جائے۔اجلاس میں صوبائی وزرا سید ناصر حسین شاہ اور جام خان شورو، معاون خصوصی برائے وزیراعلی سید قاسم نوید، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلی آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (پی اینڈ ڈی)نجم احمد شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، چیئرمین سی ایم آئی ٹی بلال میمن، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، چیف ایگزیکٹو آفیسر واٹر بورڈ احمد صدیقی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔شہر میں جاری 285 ترقیاتی اسکیموں کی تفصیلی بریفنگ دی گئی جن کی مجموعی لاگت 86.94 ارب روپے ہے۔مجموعی پورٹ فولیو کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلی کو بتایا گیا کہ کراچی کے لیے 38.83 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 22.36 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں اور موجودہ مالی سال کے دوران 13.15 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ ان اسکیموں پر مجموعی اخراجات 33.94 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ کراچی صوبے کی معاشی شہ رگ ہے، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جاری شدہ فنڈز کے استعمال کو بہتر بنایا جائے اور رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے76 )اسکیموں پر کام کر رہی ہے جن میں 72 فیصد مجموعی استعمال ہو چکا ہے جبکہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)200 اسکیموں پر عملدرآمد کر رہی ہے جن میں 46 فیصد استعمال ہوا ہے۔ میگا کراچی نو بڑی اسکیموں پر کام کر رہا ہے جن میں 62 فیصد استعمال ریکارڈ کیا گیا ہے۔کچھ نئی منظور شدہ اسکیموں میں سست روی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ تمام ضابطہ جاتی تقاضے فوری مکمل کیے جائیں تاکہ زمینی سطح پر کام شروع ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ منظوری اور فنڈز دستیاب ہیں، اب توجہ عملی نتائج پر ہونی چاہیے۔وزیراعلی نے دریائے ملیر پر مرغی خانہ پل اور قیوم آباد کے قریب شاہراہ بھٹوکورنگی کازوے جنکشن سمیت میگا منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور ہدایت دی کہ نظرثانی شدہ مدت کے اندر ان کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔شاہراہ بھٹو اور کورنگی کازوے پل، قیوم آباد کورنگی، 1,890.180 ملین روپے کا منصوبہ ہے جس کی مکمل رقم جاری کی جا چکی ہے۔ 902 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں اور 68 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے۔کریم آباد انڈر پاس، جس کی لاگت 3.8 ارب روپے ہے اور مئی 2023 میں شروع ہوا، 85 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ منور چورنگی، گلستانِ جوہر اسکیم 36) منصوبہ 2,026.487 ملین روپے کا ہے، جس کے لیے 300 ملین روپے جاری کیے گئے اور 75 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے۔وزیراعلی نے کے ڈی اے کے منصوبوں، بشمول کریم آباد اور منور چورنگی انڈر پاسز، کا جائزہ لیتے ہوئے معیار برقرار رکھنے اور ٹریفک میں کم سے کم خلل کی ہدایت کی۔ انہوں نے میئر کراچی کو ہدایت دی کہ یہ منصوبے ایک ماہ میں مکمل کر کے عوام کے لیے کھولے جائیں۔انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے نے چھ نئی اسکیمیں شروع کی ہیں، جن میں اسکیم 41 سرجانی، اسکیم 36 گلستانِ جوہر، اسکیم 33 گلزارِ ہجری اور اسکیم 5 کلفٹن میں سڑکوں کی تعمیر 2,876.250 ملین روپے سے؛ اسکیم 33 ضلع شرقی کی مختلف سڑکوں کی تعمیر و بحالی 1,987.470 ملین روپے سے؛ سی پی 03 سے ملیر ایکسپریس وے تک ملیر ریور روڈ کے ذریعے سڑک کی تعمیر 1,428.821 ملین روپے سے؛ آئی بی سومرو روڈ معمار میں نالے اور سڑک کی تعمیر و بحالی 1,350.994 ملین روپے سے؛ اور گجر نالہ فلائی اوور، سر شاہ سلیمان روڈ کراسنگ، ضلع وسطی کراچی، 1,650 ملین روپے سے شامل ہیں۔ وزیراعلی نے وزیر بلدیات ناصر شاہ کو ہدایت دی کہ ان تمام منصوبوں پر فوری کام شروع کیا جائے۔وزیراعلی نے 24 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 13 ارب روپے گرانٹ اِن ایڈ اور کراچی کی 26 بڑی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8.53 ارب روپے کی منظوری کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کی سربراہی میں نگرانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ماہانہ پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ناقص منصوبہ بندی یا غیر معیاری کام برداشت نہیں کیا جائے گا۔کے ایم سی کے ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے تحت پرانے شہر کی ترقی 744.5 ملین روپے سے اور کاروباری علاقوں کی بہتری 1.05 ارب روپے سے جاری ہے۔ پرانی مارکیٹوں کی بحالی 501.5 ملین روپے کی لاگت سے جاری ہے جس میں 35 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے۔عظیم پورہ چوراہے پر فلائی اوور، ملیر ریور برج سے شمع شاپنگ سینٹر شاہ فیصل ٹان تک سڑک کی توسیع و بحالی 1.56 ارب روپے سے جاری ہے۔ گلشنِ حدید موڑ تا اللہ والی چورنگی اور حب ریور روڈ تا ٹوری بنگش اتحاد ٹان منصوبے بھی جاری ہیں۔شہری نقل و حرکت اور ماحولیات سے متعلق منصوبوں میں 4 ارب روپے سے ٹریفک کوریڈورز کی بحالی شامل ہے، جس کا ٹینڈرنگ عمل جاری ہے۔ کڈنی ہل پارک میں برڈ ایویری اور گٹر باغیچہ میں پارک کی تعمیر شامل ہے۔ قبرستانوں کی ترقی کا منصوبہ پی سی ون مرحلے میں زیر غور ہے۔وزیراعلی نے ہدایت کی کہ تمام منظور شدہ اسکیمیں زمینی سطح پر نمایاں پیش رفت میں تبدیل ہوں اور شہری تجدید، سڑکوں کی بحالی اور عوامی مقامات کی ترقی مربوط انداز میں آگے بڑھے۔ انہوں نے صوبائی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور یوٹیلیٹی سروسز کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی ہدایت دی تاکہ تاخیر سے بچا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت کراچی کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا مقصد بہتر سڑکیں، ہموار ٹریفک اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے۔ ہر محکمہ اپنی ذمہ داری قبول کرے۔ انہوں نے محکمہ بلدیات کو ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں ہر بڑے منصوبے کے لیے واضح ٹائم لائن اور جوابدہی کے ساتھ تازہ پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں