گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر، ہر دکاندار کو پانچ لاکھ دینے کا اعلان
شیئر کریں
1102دکانیں رجسٹرڈ ، دو سال تک کاروبار کیلئے دکان ، ایک کروڑ بلاسود قرض ملے گا، مراد علی شاہ
دکانوں میں موجود اسٹاک کی مالیت کاتخمینہ کے بعد نقصانات کا ریکارڈ مرتب ہو گا، اسمبلی میں بیان
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے ہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے دینے اور گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ تاجروں کا نقصان پورا کرے گی،سانحے کی وجوہات کا پتہ چلانے کے لئے کمیٹی بنائی، جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کو سزا ملے گی، حکومتی اداروں کی اگر غفلت ہے تو ان کو بھی سزا ملے گی۔ سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے مرادعلی شاہ ںے کہا کہ گل پلازہ سانحے نے پورے ملک کو غمگین کر دیا، میں آج اس ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں، ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کچھ کرنا ہوگا، اس واقعے میں ٹوٹل 88 مسنگ لوگ رپورٹ ہوئے ان میں سے کچھ کی رپیٹیشن ہوئی 82 کا عدد درست تھا، اس وقت تک 67 نعشیں برآمد ہوچکی ہیں اور اب بھی 15 لوگ لاپتا ہیں جب کہ 15 لوگوں کی ڈی این اے ہوچکا ہے اور 52 لوگوں کا ڈی این اے پراسس چل رہا ہے باڈیز کی شناخت کروا کہ کہ لواحقین لے حوالے کی جائیں گی۔ وزیراعلی کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کا واقعہ دس بج کر چودہ منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک دکان پر آگ لگنے سے پیش آیا، دس بجکر چھبیس منٹ پر فائر برگیڈ کو کال آئی، کمی یا کوتاہیوں پر مکمل انکوائری ہو رہی ہے، اس سانحے کا مقدمہ درج ہوگا، ریسکیو 1122 کو دس بج کر چھتیس منٹ پر کال گئی، آگ کے 16 منٹ بعد حکومتی نمائندہ ڈی سی ساؤتھ واقعے کی جگہ پہنچ گیا، مجھے کسی کی نیت پر شک نہیں لیکن اس پر سیاست کسی کو نہیں کرنی چاہیے تھی، اٹھارویں ترمیم والے بیانات کے بعد کیا محرکات ہیں کچھ بتاؤں گا۔وزیر اعلی سندھ کی تقریر کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ سی ایم صاحب غلط بیانی کر رہے ڈی سی نہیں پہنچا تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کہنا نہیں چاہتا تھا مگر چور کی داڑھی میں تنکا، کی ایم سی نے گل پلازہ کی لیز منظور کی تھی، اس وقت کی ایم سی میں کون تھا؟ اسی کی دہائی میں گل پلازہ کا تعمیراتی کام مکمل ہوا، گل پلازہ کی لیز کو آٹھ سال بعد ری نیو کیا گیا، سال 1991ء میں کی ایم سی نے گل پلازہ کی لیز میں توسیع کی، اٹھارویں ترمیم سے پہلے کا گند ہم اب تک صاف کر رہے ہیں، 1991ء میں میٔر کون تھا؟ پہلے نعمت اللہ خان تھے پھر فاروق ستار تھے اس وقت کے میٔر نے لیز منظور کی، 1979ء میں گل پلازہ کو بیسمنٹ گراؤنڈ اور دو فلور کی منظوری دی گئی تھی، دو ہزار ایک میں اٹھارویں ترمیم اور پیپلز پارٹی نہیں تھی، اس وقت ایک آرڈیننس آیا کہا گیا کہ جتنی بھی عمارتوں میں ارریگیورلٹیز ہیں ان کو ریگیورلائیز کروائیں، کاغذات میں پلازہ کے جتنے خارجی راستے موجود ہیں اتنے اس وقت موجود نہیں تھے۔


