میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حکومت کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پھر پیشکش

حکومت کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پھر پیشکش

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۳ جون ۲۰۲۱

شیئر کریں

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ بتائیں کیسے آگے بڑھیں ،قدم سے قدم ملا کر چلنے کو تیار ہیں ،ہماری 49 تجاویز کوئی صحیفہ نہیں ان پر بات ہوسکتی ہے، اپوزیشن عدالتی اور انتخابی اصلاحات کیلئے اپنی تجاویز دے ، شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں فیصلے کہیں اور سے ہوتے ہیں ،پہلے اپنے اندر اتحاد لائیں ،اپوزیشن جانتی ہے اگلے پانچ بھی عمران ہونگے ، ابھی سے دھاندلی کا واویلا کررہی ہے ،اپوزیشن عمران خان پر جتنی تنقید کریگی ان کا گراف بلند ہوگا ،دو سال میں اربوں روپے سندھ کو دیئے ،سندھ حکومت نے کیا کیا، یہ پیسہ لندن، کینیڈا، امریکا، پیرس اور دبئی چلا گیا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2021-22کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہاکہ بجٹ تقریبا 8 ہزار ارب کا ہے،خسارہ 3 ہزار ارب کا ہوگا۔ انہوںنین کہاکہ 5700 ارب روپے ریونیو حاصل کرینگے اس کا 57 فیصد صوبوں کو چلا جائے گا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ سات سو ارب روپے تنخواہوں و پنشن کیلئے رکھے ہیں، دفاع بجٹ کو اس حساب سے نہیں بڑھایا جتنا ہمسائیہ ملک نے بڑھایا۔ انہوںنے کہاکہ ہم 2 ہزار ارب روپے سے زیادہ اس وقت قرضوں کی مد میں دے رہے ہیں جو ہم نے نہیں لیے، یہ قرضے اپوزیشن نشستوں پر بیٹھے لوگوں نے لیے تھے۔انہوں نے 2008 سے 2018 کے عرصے کو سیاہ ترین دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں پاکستان پر بین الاقوامی قرضہ 6 ہزار ارب روپے تھا، ہم نے اس قرض سے اسلام آباد شہر آباد کیا، گوادر خرید کر اس کی مارکیٹ بنالی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج کھڑی کردی، ہم نے نیوی بیس اور موٹرویز بنالیں۔انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دور حکومت سے لے کر (ن) لیگ کے قائد نواز شریف کے دور اقتدار تک ملک کا قرضہ 26 ہزار ارب روپے ہوگیا۔فواد چوہدری نے بتایا کہ سابقہ حکومتوں کے فیصلے کے نتیجے میں موجودہ حکومت کو ہر سال 2 ہزار روپے قرضوں کے سود کی مد میں ادائیگی کرنی پڑتی ہے، یہ قرضہ اپوزیشن جماعتوں نے برسراقتدار ہونے کے وقت ملک پر مسلط کیا۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے ساہیوال میں کوئلے کا پلانٹ لگایا تاکہ بجلی بنا سکیں جبکہ ساہیوال میں کوئلہ نہیں ہوتا تو فیصلہ کیا گیا کہ کراچی سے کوئلہ بذریعہ ٹرین ساہیوال پہنچایا جائیگا، ان کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے اس پورے راستے میں سنگین ماحولیاتی مسائل پیدا ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ 2008 میں جب آصف علی زرداری نے صدارتی منصب سنبھالا اور جب نواز شریف کی حکومت آئی تب 190 ارب روپے لازمی ادائیگی پاور پلانٹس کو کرنی تھی، جب وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو معلوم ہوا کہ لازمی ادائیگی کا حجم 900 ارب روپے تک بڑھ گیا۔فواد چوہدری نے کہا کہ 2023 کے انتخابی سال میں لازمی ادائیگی کی مد میں 15 سو ارب روپے پاور پلانٹس کو دینے پڑیں گے، اگر پلانٹ لگانے کی کہانیاں سنائی تو اپوزیشن ناراض ہو کر واک آؤٹ کرجاتے ہیں اس لیے وہ نہیں سنا رہا۔انہوں نے کہا کہ پاورپلانٹس سے صارف تک بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت 24 ہزار میگا واٹ ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اس بجٹ میں 700 ارب روپے سے زائد سندھ حکومت کو جارہا ہے، مجموعی طورپر رواں سال میں 16 سے 18 سو ارب روپے تک جاچکا ہے۔فواد چوہدری نے اپوزیشن جماعتوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا نعرہ لگانے والے آئندہ پانچ برس اس طرح نعرے لگاتے رہیں گے اور میں نے انہیں مشورہ دیا کہ خطاطی سیکھ لیں تاکہ یہاں سے بیٹھ کر نعرے لکھے اور باہر جا کر احتجاج کرلیں۔وزیر اطلاعات نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کراچی کی اپنی پولیس ہی نہیں ہے ،1990 سے سندھ رینجرز وہاں کام کررہی ہے ،سندھ حکومت میں صلاحیت ہی نہیں کہ اپنی پولیس بنا سکے ۔ انہوںنے کہاکہ جتنا پیسہ سندھ حکومت کو دیا اس سے تو شہر کو پیرس ہونا چاہیے تھا ،سندھ حکومت کو دیا جانے والا پیسہ دبئی ، کینیڈا امریکہ میں جاتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دو سال میں سولہ سے سترہ سو ارب روپے سندھ کو صرف این ایف سی میں سے دئیے گئے،گرانٹس کی مد میں علیحدہ رقم دی گئی، سندھ حکومت نے کیا کیا یہ پیسہ کہاں گیا؟۔ انہوںنے کہاکہ دو خاندان ہیں ایک پنجاب سے ا ور دوسرا سندھ سے پیسہ باہر بھیجتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کہتے ہیں عوام کی جیبیں خالی ہیں کاروبار نہیں ہے ،بتایا جائے مفتاح اسماعیل کی فیکٹری اربوں روپے کیسے کما گئی؟۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں