میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
وزیر اعظم نے لاک ڈائون کی پھر مخالفت کردی

وزیر اعظم نے لاک ڈائون کی پھر مخالفت کردی

ویب ڈیسک
منگل, ۲۳ جون ۲۰۲۰

شیئر کریں

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون کی ایک بار پھر مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں نے جو حالات پیدا کئے اس کی مثال نہیں ملتی، صوبے پوچھ لیتے تو کبھی ایسا لاک ڈاون نہ کرنے دیتا، بڑی تنقید ہوئی لیکن شکر ہے میری بات مان لی گئی۔سماجی تحفظ کے پروگرامز احساس اور وزیراعظم کووِڈ ریلیف فنڈ کے حوالے سے منعقدہ ایک بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ مجھ سے اس لاک ڈاون کی توقع کررہے تھے جو نریندر مودی نے کیا، لیکن اللہ کا شکر میں نے اس دبا کی مزاحمت کی اور وہ لاک ڈاون نہیں لگایا۔اگر مجھ سے صوبے پوچھ لیتے تو میں کبھی اس طرح کا لاک ڈاون نہیں ہونے دیتا کیوں کہ جب لاک ڈاون لگائیں تو پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کے معاشرے کے دیگر طبقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 30 سال سے پیسہ اکٹھا کرنے والے فنڈ ریزر کے طور میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستانی قوم میں عطیہ کرنے کا جو جذبہ پایا جاتا ہے اسے کوئی بھی اس طرح نہیں سمجھتا جس طرح میں سمجھتا ہوں،انہوں نے بتایا کہ جب میں نے (شوکت خانم کے لیے) عطیات جمع کرنا شروع کیے تو یہ میرے لیے بھی ایک عجیب تجربہ تھا کیوں کہ میں پاکستان کے سب سے مہنگے اسکول میں یہ سوچ کر گیا کہ وہاں لوگوں سے عطیات اکٹھے کرلوں گا لیکن آخر میں مجھے عطیات عام لوگوں نے ہی دیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری قوم میں عطیات دینے کا جذبہ اس لیے زیادہ ہے کہ ان کا اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان ہے۔ دنیا میں پاکستانیوں جتنی کوئی قوم خیرات نہیں دیتی۔ سیلاب کے دوران لوگوں نے بڑھ چڑھ کر امداد دی تھی۔ اب بھی ڈونرز کو صرف اعتماد چاہیے کہ پیسہ صیح جگہ استعمال ہو رہا ہے، لوگ بہت پیسہ دیں گے۔ ویب سائٹ کے ذریعے ڈونز کو بتائیں گے کہ کن علاقوں میں مدد کرنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ریلیف فنڈز کا مقصد بے روزگار افراد کی مدد کرنا ہے۔وزیراعظم کووِڈ ریلیف فنڈ کے ساڑھے 4 ارب روپے میں 50 فیصد چھوٹے عطیات ہیں جو عام لوگوں نے دیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 سال میں کسی نے اتنا پیسہ اکٹھا نہیں کیا جتنا میں نے کیا اور میرے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی کہ پیسہ وہ افراد دیتے ہیں جن کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں کینسر کے علاج کے لیے شوکت خانم بنایا گیا جہاں امیر بیرونِ ملک جائے بغیر اور غریب مفت میں کینسر کا علاج کرواسکیں اور پوری دنیا میں کہیں بھی اس طرح کا کوئی تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ ایک معجزہ ہے کہ کینسر ہسپتال میں کہ جہاں سب سے مہنگا علاج ہے وہاں 75 مریضوں کا ہر سال مفت علاج ہوتا ہے جسے ترقی یافتہ ممالک کے بھی ہسپتال برداشت نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کینسر ہسپتال پاکستانیوں نے ہی بنایا اور وہ ہی اسے چلا رہے ہیں اور 70 کروڑ روپے میں تعمیر ہونے والے ہسپتال کا خسارہ 12 ارب روپے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک دفعہ لوگوں کو یہ اعتماد ہوجائے کہ جو عطیات ہم دے رہے ہیں وہ کرپشن کی نذر ہونے کے بجائے درست طریقے سے استعمال ہورہے تو یہ قوم جتنے کھلے دل سے خیرات دیتی ہے اس طرح شاید ہی دنیا میں کوئی قوم دیتی ہو۔وزیراعظم نے کہا پاکستان کو دنیا کے ان ممالک میں شامل کیا جاتا ہے جہاں سب سے زیادہ عطیات دیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سیلاب اور زلزلے آئے اس وقت بھی قوم نے بڑھ چڑھ کر مدد کی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک جگہ ساری دنیا پہنچ جاتی تھی اور کچھ مقامات پر لوگ امداد سے محروم رہتے تھے مثلا بالاکوٹ میں جن زلزلہ آیا تو 3 میل تک امدادی اشیا لے کر پہنچنے والی گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں لیکن جن علاقوں کا ذکر نہیں ہوا وہاں امداد سے محروم بھوکے لوگ گاڑیاں لوٹ رہے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاون کی وجہ سے جو صورتحال سامنے آئی اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی، ہم تو پہلے ہی مشکل معاشی حالات سے گزر رہے تھے لیکن امریکا جیسے ملک میں لوگ طویل قطاریں لگا کر امداد وصول کرتے نظر آئے اسی طرح اٹلی میں بھوک کا شکار افراد کو کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں