ایرانی ایٹم بم
شیئر کریں
بے لگام
۔۔۔۔۔
ستار چوہدری
طاقت صرف ہتھیار سے نہیں ناپی جاتی، راستے اورمواقع بھی ہتھیار ہیں۔۔۔ جنگیں صرف فائرنگ سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ ذہنوں اور راستوں پر قابو پانے سے جیتی جاتی ہیں۔۔۔۔ جہاں خوف اور حساب کا توازن ہو، وہاں جنگ کمزوروں پر نہیں، سوچ رکھنے والوں پر لڑی جاتی ہے ۔۔۔ اور کبھی کبھی۔۔۔۔ دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے ایک بم نہیں، ایک راستہ ہی کافی ہوتا ہے ۔۔۔ یہ بات پرانی ہوچکی ،جب طاقت کو ایٹم بم ،میزائلوں اور جنگی طیاروں سے ناپا جاتا تھا،کچھ ہتھیار ایسے بھی ہیں جو نظر نہیں آتے ، مگر پوری دنیا کی سانس روک سکتے ہیں۔ایران کے پاس بھی ایک نہیں، دو ایسے ” ہتھیار ”موجود ہیں جو روایتی ایٹم بم سے کم خطرناک نہیں۔۔۔۔ میں اس لئے باربار کہہ رہا ہوں ایران جنگ نہیں ہارے گا،امریکا کو مشرق وسطیٰ سے بھاگنا پڑے گا،ایران کے پاس ابھی بڑے ” ہتھیار” باقی ہیں جنہیں ابھی تک ہاتھ تک نہیں لگایا،جس دن ایران حکام نے دیکھا وہ تباہ ہورہے ہیں ،اس دن وہ ” ہتھیار” استعمال ہونگے جو پوری دنیا کی سانسیں روک دیں گے ۔۔۔ وہ ہتھیار کیا ہیں ۔۔۔ ؟ تیل بحران،ڈیٹا بحران ۔۔۔ سمجھیں یہ دو ”ایٹم بم ” ہیں۔۔۔۔
آبنائے ہرمز،یہ ایک تنگ سا سمندری راستہ ، دنیا کی معیشت کی شہ رگ ہے ۔ دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے ۔ اگرایران اسے مکمل بند کردے تو عالمی منڈیوں میں بھونچال آجائے گا، قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی، دنیا بھر کی معیشتیں لڑکھڑاجائیں گی اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے چہروں سے اعتماد اتر جائے گا۔۔۔ یہ راستہ نہ صرف تیل بلکہ ایل این جی کی بھی گزرگاہ ہے ،ایشیا کے تمام ممالک کے یہاں سے ہی ایل این جی کے ٹینکرز گزرتے ہیں،نہ صرف تیل بحران پیدا ہوگا گیس کا بھی بڑا بحران پیدا ہوجائے گا، بھارت میں گیس کی لائنیں لگ چکی ہیں۔۔۔یہ ہے ایران کا پہلا ”ایٹم بم ”۔۔۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
اسی سمندر کی تہہ میں خاموشی سے بچھے ہوئے ہیں وہ فائبر آپٹک کیبلز، جن پر آج کی دنیا کھڑی ہے ۔ یہی کیبلز یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو جوڑتی ہیں۔ بینکنگ، اسٹاک مارکیٹس، سوشل میڈیا، سرکاری نظام ،سب اسی ” ڈیجیٹل شاہراہ” پردوڑرہے ہیں۔ اگر ایران اس کیبلز کو کاٹ دے تو پھر۔۔۔؟ مشرق وسطیٰ اور ایشیا کا نیٹ بند ہوجائے گا،نیٹ بند ہونے کا مطلب،پورا بینکنگ سسٹم،پورا سوشل میڈیا،اسٹاک ایکسچینجز،ائیرلائنز،سرکاری دفاتر اورمیڈیا انڈسٹری بند ہوجائے گی،یورپ اور دیگر براعظموں کا مشرق وسطیٰ اورایشیا سے رابطہ کٹ جائے گا۔ یہ بھی ذہن میں رہے ،کیبلز اگر کٹ جائے تو ٹھیک کرنے میں کم ازکم پانچ،چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے ،اتنے عرصے میں پوری دنیا کی سانسیں بند ہوجائیں گی۔ یہ ہے ایران کا دوسرا ”ایٹم بم ”۔۔۔
اب ذرا سوچیں، اگر کسی ایک لمحے میں اگردونوں دباؤ اکٹھے آجائیں،تیل بھی رُک جائے اور ڈیٹا بھی رک جائے ۔۔۔تو پھرکیا ہوگا۔۔؟ جہاں ایک طرف گاڑیاں رکیں گی، وہیں دوسری طرف سرورز بھی ہچکیاں لینے لگیں گے ،یہ وہ جنگ ہوگی جس میں گولیاں کم، اثرات زیادہ ہوں گے ۔۔۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایران کھڑا ہے ،ایک ایسے چوک پر، جہاں سے وہ دنیا کو براہِ راست تباہ نہیں، معیشت کو تباہ کرسکتا ہے ۔ ۔۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ، کیا ایران واقعی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے ۔۔۔؟ دوسری طرف بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ،کیا ایران اسرائیل اورامریکا کے ہاتھوں تباہ ہوتا رہے گا۔۔۔ ؟ ۔۔۔ اورکتنے رہنماؤں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے ۔ ۔۔ ؟ کیا خود کوغزہ بنالیں گے ۔۔۔؟۔۔۔یہ ناممکن ہے ،ابھی تو ایران بہترپوزیشن میں جارہا،ابھی تو کچھ خطرناک میزائل بھی باقی پڑے ہیں ،جس دن ایرانی قیادت کو احساس ہوا وہ ڈوبنے لگے ہیں ،وہ ان دونوں ” ایٹم بموں ”کا استعمال کرینگے ۔۔۔اگر یہ آخری حربہ استعمال ہوا تو اس سے امریکا ، اسرائیل کم،دنیا کے باقی ممالک زیادہ متاثر ہونگے ، پورا مشرق وسطیٰ ،یورپ، چین، بھارت، جاپان ،پاکستان سمیت پورا ایشیامتاثر ہونگے ، دباؤ کس پر آئے گا۔۔۔ ؟ اسی وجہ سے یورپ نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔۔۔ماضی کی ایک مثال،جب امریکا نے افغانستان پر دھاوا بولا،یورپ کندھے سے کندھا ملا کر یورپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا،پیسہ بھی خرچ کیا،فوجی بھی مروائے ، ایران جنگ میں کیوں نہیں۔۔۔ ؟ افغانستان کمزور تھا،نہ میزائل نہ ائیرفورس،نہ ڈرون،نہ دفاعی نظام ،نہ توپیں،نہ ٹینک، نہ ریگولرآرمی نہ معیشت،دوسری طرف ایران کے پاس سب کچھ ہے ۔۔۔ دنیا انصاف پر نہیں، مفاد پرچلتی ہے ۔۔۔یہ اصول نیا نہیں، صدیوں پرانا ہے ۔جہاں مزاحمت کم ہو، وہاں طاقت کا استعمال زیادہ ہوتا ہے ، جہاں جواب کا خطرہ ہو، وہاں الفاظ اور پابندیاں آگے آجاتی ہیں۔۔۔۔مگر اب دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے ۔۔ جہاں ”طاقت” صرف بم نہیں،راستے ہیں۔۔۔ راستے تیل کے بھی، اور راستے ڈیٹا کے بھی۔۔۔۔۔ اور ایران ان دونوں راستوں کے کنارے کھڑا ہے ۔یہ طاقت شاید ایٹم بم جیسی فوری تباہی نہ پھیلا سکے ، مگر یہ دنیا کو اتنا ضرور ہلا سکتی ہے کہ بڑے بڑے فیصلے چند گھنٹوں میں بدل جائیں۔
یوں دیکھا جائے تو، ایران کے یہ دو ”ایٹم بم” صرف ایک دھمکی نہیں، بلکہ عالمی توازن کا ایک نازک عنصر ہیں ،ایک ایسا عنصر جو ہر لمحے دنیا کی پالیسیوں، معیشت اور ڈیجیٹل نظام پر اثر ڈال سکتا ہے ۔آخر میں بات صرف اتنی سی ہے ، تیل کی رگیں اور ڈیجیٹل تاریں آج کے ایٹم بم ہیں۔۔جنگیں اب صرف میدان میں نہیں جیتی جاتی، کچھ جنگیں سمندر کی تہہ میں بچھے تاروں اور تنگ گزرگاہوں پر بھی لڑی جاتی ہیں۔۔۔ اور کبھی کبھی۔۔۔ دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے ایک بم نہیں، ایک راستہ ہی کافی ہوتا ہے ۔۔
٭٭٭


