پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی
شیئر کریں
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع
ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت دفاع کی ننگرہار اور پکتیکا کے اشہری علاقوںمیں پاکستان کی جانب سے حملوں کی شدیدمذمت
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے سات ٹھکانے تباہ ہوئے جبکہ 80 سے زائد خوارج مارے گئے۔عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ رات افغانستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایٔراسٹرائیک کی گئی ہیں جس میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جب کہ 80 سے زائد خارجی مارے جانے کی اطلاعات بالکل مصدقہ ہیں جب ہلاکتیں بڑھنے کا امکان ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے جو سات ٹھکانے تباہ ہوئے ان میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبر دو ننگرہار، خارجی مولوی عباس مرکز خوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار، خارجی ابراہیم مرکز ننگرہار، خارجی ملا رہبر مرکز پکتیکا اور خارجی مخلص یار مرکز پکتیکا شامل ہیں۔اُدھر افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے۔


