میگزین

Magazine
تازہ ترین : عمران خان کی حکومت ہٹانے سے متعلق سائفر امریکی میڈیا میں ہی افشا ہو گیا عمران خان کی آنکھ کے علاج کے لیے پمز اسپتال منتقلی پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید بڑھنے لگے، علیمہ خانم کے انٹرویو پر سخت ردعمل اسرائیلی توسیعی منصوبہ،امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان کا سخت ردعمل سندھ بلڈنگ، کورنگی بلڈنگ زون میں قوانین خاک میں ملنے لگے گینگ آف عزیزآباد ، گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی پولیس کی پہنچ سے دور کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

ای پیج

e-Paper
مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

ویب ڈیسک
پیر, ۲۳ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟
ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں؟ پیپلز پارٹی کی اپنے بانی کے آئین سے بے وفائی ہے، رہنماؤں کی پریس کانفرنس

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیٔرمین خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے کہ 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں، ایک اہم موڑ پر ہم داخل ہو گئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے، ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور ہوئی، سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی جانب سے تمام مکاتب فکر سے سوال ہے؟ کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قرارداد منظور کرسکتا ہے؟ جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں؟۔خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے، صوبے اس کے حصے ہیں، پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش نہیں بن سکتا، یہ کیسا انصاف ہے کہ 180 سیٹیں لینے والا جیل میں اور 80 سیٹ لینے والا وزیراعظم ہے، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے، کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر کیا تقسیم ملتی ہے؟۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے شریک جرم ہے، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ پیپلزپارٹی کی منافقت یہ ہے جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حامی لیکن سندھ میں مخالف ہے، سندھ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے، جو سلوک 50 سالوں سے شہری علاقوں کے ساتھ جاری ہے کیا اس کی مثال کہیں اور ہے؟ پلاننگ کمیشن کی رپورٹ میں سب سے زیادہ غربت بڑھنے کی شرح سندھ میں ہے۔چیٔرمین ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ آئین زندہ دستاویز ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے، واحد ایم کیو ایم نے 10 کے بجائے 5 سال کے اندر دو مردم شماری کروائیں، آئین کا آرٹیکل (4)239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے، پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے بے وفائی کر رہی ہے، آرٹیکل 140 اے آئین کا حصہ ہے جو پورے پاکستان کیلئے ہے، آئین ہی ہمیں پر امن جدوجہد اور احتجاج کی اجازت دیتا ہے، یہ قرارداد پاکستان کی تقسیم کی سازش ہے، انصاف ہی امن کی ضمانت ہے، امن انصاف کی ضمانت نہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں