میگزین

Magazine
تازہ ترین : عمران خان کی حکومت ہٹانے سے متعلق سائفر امریکی میڈیا میں ہی افشا ہو گیا عمران خان کی آنکھ کے علاج کے لیے پمز اسپتال منتقلی پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید بڑھنے لگے، علیمہ خانم کے انٹرویو پر سخت ردعمل اسرائیلی توسیعی منصوبہ،امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان کا سخت ردعمل سندھ بلڈنگ، کورنگی بلڈنگ زون میں قوانین خاک میں ملنے لگے گینگ آف عزیزآباد ، گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی پولیس کی پہنچ سے دور کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

ای پیج

e-Paper
دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

ویب ڈیسک
پیر, ۲۳ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے
وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، افسوس کی بات ہے کہ ان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، ورنہ وہ اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔ایم کیو ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال دونوں وفاقی وزیر ہیں اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے اس طرح کے بیانات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ وفاقی حکومت وضاحت کرے دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف پروپیگنڈا اور سازش میں کیوں مصروف ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ وضاحت کرے کہ ان کے دو وفاقی وزیر اور اتحادی جماعت مسلسل سندھ حکومت کے خلاف پراپیگنڈہ اور سازش میں کیوں مصروف ہیں، گورنر ہائوس آئینی منصب کی علامت ہے اور اسے سیاسی محاذ آرائی یا صوبائی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز نہیں بننا چاہیے، وفاقی حکومت فوری وضاحت کرے اور ان تمام واقعات کے محرکات واضح کرے، ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ایسے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا دانشمندی نہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں