سندھ بلڈنگ، کورنگی بلڈنگ زون میں قوانین خاک میں ملنے لگے
شیئر کریں
ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی نے شہریوں کا جینا حرام کردیا
اللہ والا ٹاؤن کے پلاٹ R752پر جاری خلاف ضابطہ تعمیرات تیز
کورنگی کے رہائشی علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ انتظامیہ کی جانب سے بظاہر تو کارروائی کے احکامات جاری ہوتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی جہاں کاغذی کارروائی میں مصروف نظر آتے ہیں، وہیں ان کے ماتحت انسپکٹر کاشف علی حقیقی طور پر غیرقانونی تعمیرات کو فروغ دینے میں ملوث پائے گئے ہیں ۔تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ انسپکٹر کاشف علی نے اپنے زیر انتظام علاقوں میں سینکڑوں تعمیراتی سائٹس کا معائنہ کیا، مگر ان میں سے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر تعمیرات ایسی ہیں جو واضح طور پر بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ایک بلڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا "یہ ایک طے شدہ معاملہ ہے ۔ کاشف علی صاحب سے براہ راست ڈیل ہو جاتی ہے اور تعمیر چلتی رہتی ہے ۔ جلبانی صاحب کو بھی اس کا علم ہے ، ان کا اپنا حصہ الگ ہے ۔ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔” محکمے کے اندرونی ذرائع کے مطابق، ڈائریکٹر سمیع جلبانی کو متعدد بار انسپکٹر کاشف علی کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا، مگر انہوں نے نہ صرف کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ کاشف علی کو مزید علاقوں کی ذمہ داری دے دی گئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بھی اعلیٰ حکام کی جانب سے غیرقانونی تعمیرات کے بارے میں استفسار کیا جاتا ہے ، ڈائریکٹر سمیع جلبانی فوری طور پر انسپکٹر کاشف علی سے رپورٹ طلب کرتے ہیں، اور کاشف علی ایسی رپورٹ پیش کرتے ہیں جس میں تمام تعمیرات کو قانونی قرار دے دیا جاتا ہے ۔اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31G کے پلاٹ نمبر R752 پر خلاف ضابطہ تعمیر ات جاری ہے ۔ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے تباہ کن نتائج سامنے آ رہے ہیں: کورنگی کے بیشتر علاقوں میں نکاسی آب کا نظام تباہ ہو چکا ہے، غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے سڑکیں تنگ ہو گئی ہیں۔ آگ لگنے کی صورت میں فائر بریگیڈ کی رسائی مشکل ہو گئی ہے ۔زلزلے کی صورت میں ان عمارتوں کے گرنے کا شدید خطرہ ہے۔ ایک مقامی ڈاکٹر پرویز اختر کا کہنا ہے ، "ہم نے انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ان غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے ہنگامی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔ مگر افسران اپنے ذاتی مفادات کے لیے عوام کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔”سماجی حلقوں کہنا ہے ، "یہ دونوں افسران ایک دوسرے کی آڑ لے کر عوام کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔ سمیع جلبانی اعلیٰ سطح پر بیٹھ کر کاغذی کارروائی کرتے ہیں، اور کاشف علی زمینی سطح پر غیرقانونی تعمیرات کو چلانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ ایک مکمل نظام ہے جسے توڑنا ضروری ہے ۔”واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا قیام ہی شہریوں کو غیرقانونی تعمیرات سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا، مگر ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی جیسے افسران نے اس ادارے کو عوام کے لیے مصیبت کا باعث بنا دیا ہے ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ان افسران کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف سنگین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


