میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سفریاد۔۔۔ قسط15

سفریاد۔۔۔ قسط15

منتظم
منگل, ۲۲ نومبر ۲۰۱۶

شیئر کریں

shahid-a-khan

شاہد اے خان
جنادریہ کالج میں کام زیادہ نہیں تھا،مختلف شعبوں کی مینٹینس کے لیے شیڈیول بنانا اور متعلقہ شعبوں تک پہنچانا ہمارا کام تھا۔ یہ ایک بڑے رقبے پر پھیلا ہوا کالج تھا،مختلف شعبے ایک دوسرے سے فاصلے پر تھے ،اسٹاف کے لیے رہائشی علاقہ بھی کالج سے ملا ہوا تھا۔ اندازاً سب ملا کر کوئی دس مربع کلو میٹر کا علاقہ ہوگا۔ اپنے دفتر سے قریبی شعبہ جات میں جانے کیلیے پیدل مارچ کرنا پڑتا تھا دور کے شعبوں یا رہائشی علاقے میں جانے کے لیے کمپنی کی ڈبل کیبن گاڑی موجود تھی۔ سعودی عرب میں گاڑیاں الٹے ہاتھ چلتی ہیں یعنی پاکستان کے حساب سے یہاں گاڑیاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہیں، اس لیے ہم نے کچھ عرصے گاڑی چلانے سے گریز کیا، گاڑی چلانے کے لیے کوئی اسسٹنٹ لے لیتے تھے لیکن ایک روز رہائشی علاقے جانا تھا اور گاڑی چلانے کے لیے کوئی بندہ موجود نہیں تھا۔ ناچار ہم نے خود ہی گاڑی چلانے کی ٹھانی۔ پہلے تو اسٹیرنگ الٹے ہاتھ پر اوپر سے گیئر سیدھے ہاتھ پر۔ ہم نے اللہ کا نام لیکر چابی گھمائی ،کلچ چھوڑا اور گاڑی چل پڑی ،پھر غلط گیئر ڈالنے کی وجہ سے گاڑی بند ہوگئی۔ پھر اسٹارٹ کی اور آگے بڑھے یہاں تک تو ٹھیک رہا مسئلہ سڑک پر پہنچ کر شروع ہوا۔ گاڑیاں تو زیادہ نہیں تھیں لیکن جو گاڑی گزرتی زن زن کرتی گزرتی تھی۔ دوسری طرف ہم آہستہ آہستہ گاڑی چلا رہے تھے۔ ڈر اس بات کا تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہوجائے، ویسے ہمارے پاس سعودی عرب کا ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا لیکن کیونکہ ہم گاڑی کالج کے اندر چلا رہے تھے اس لیے کسی شرطے کی جانب سے روکنے کا امکان نہیں تھا، ویسے کوئی حادثہ ہو جاتا تو ضرور گڑبڑ ہوجاتی۔ خدا خدا کر کے رہائشی علاقے میں داخل ہوئے ،منزل پر پہنچ کر سکون کا سانس لیا، واپسی پر بھی یہی کیفیت رہی، گاڑی میں اے سی ہونے کے باوجود پسینہ ہمارے ماتھے پر چمک رہا تھا۔ سعودی عرب میں کسی زمانے میں بڑی اور لمبی چوڑی امریکی گاڑیوں کا بول بالا تھا لیکن اب غربت یہاں بھی دستک دے چکی ہے، لمبی امریکی گاڑیوں کی جگہ چھوٹی جاپانی گاڑیوں نے لے لی ہے۔ اس کے باوجود جی ایم سی یہاں کی مقبول گاڑی ہے ، جی ایم سی کو چھوٹا سا ٹرک سمجھ لیں۔ بڑی پجارو یا لینڈ کروزر کے سائز کی یہ گاڑی سعودیوں کی محبوب گاڑی ہے، ان کے گھر میں ایک چھوڑ دو یا تین کاریں ہوں پھر بھی جی ایم سی کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ جی ایم سی صحرا ئ میں سفر کیلیے آئیڈیل ہے اور اس میں بہت سا سامان اور بہت سے لوگ ایک ساتھ سفر کرسکتے ہیں۔ ہمیں ڈبل کیبن گاڑی چلانے کو ملی تھی اور یہ بھی سعودی عرب میں بہت مقبول تھی۔ اس گاڑی کے ڈالے میں ہم نے کئی بار اونٹ بھی بندھے دیکھے، اونٹ کو پکڑ کر ڈالے میں کیسے بٹھاتے ہوں گے یہ ہم نہیں دیکھ سکے ۔کئی بار سوچا بھی کہ پورا اونٹ ڈبل کیبن کے ڈالے میں کیسے بٹھایا جاتا ہوگا لیکن ہماری سوچ ہر مرتبہ جواب دے گئی۔
اونٹ عرب بدوو¿ں کی زندگی میں اسی طرح شامل ہیں جیسے ہماری زندگیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ شامل ہو گئی ہے، ویسے سعودی عرب میں لائٹ نہیں جاتی، تیل کی بھرمار کی وجہ سے پاور پلانٹ دن رات چلتے ہیں اور عوام کو بلا کسی رکاوٹ کے بجلی چوبیس گھنٹے دستیاب رہتی ہے۔ شدید گرم موسم کی وجہ سے یہاں اے سی چلانا عیاشی نہیں مجبوری ہے۔ ریاض میں شدید گرمی پڑتی ہے، جون جولائی میں یہاں کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈیا اس سے بھی کچھ اوپر پہنچ جاتاہے۔ گرمی کے ساتھ شمال کی جانب سے آنے والی گرد و غبار کی لہر بھی ہو تو موسم ناقابل برداشت ہوجاتاہے۔ شدید گرمی کے اس سیزن کو "کھجور پکانے” والا سیزن کہا جاتا ہے۔ کھجورکی مرضی پکے یا نہ پکے، شدید گرمی سے لوگوں کا دماغ ضرور پکنے لگتا ہے۔ اتنے سخت موسم میں بھی ہمارے پاکستانی بھائی اور دیگر غریب ملکوں کے باسی عمارتوں، پلوں اور سڑکوں پر اپنا خون پسینہ بہاتے نظر آتے ہیں۔ سعودی عرب کے تقریبا 35 فی صد مزدور بیرون ملک سے آئے ہوئے ہیں، پاکستان، بھارت، مصر، بنگلا دیش اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے مزدور یہاں زیادہ نظرآتے ہیں، ایک مزدور کی اوسط تنخواہ تقریباً 800 ریال ماہانہ یاتقریباً 9600 ریال سالانہ ہے۔ ا±ن کے اخراجات میں اقامے کی تجدید، تامین کی فیس، مکتب عمل کی فیس ، رہائش کا کرایہ اور روزانہ کھانے پینے کا خرچہ شامل ہے۔ پھر انہیں اپنے گھر بھی پیسے بھیجنے پڑتے ہیں۔ دیکھا جائے تو سال بھر کا خرچ ا±ن کی آمدنی سے زیادہ ہے اس لیے ملازمت کے بعد وہ کچھ اور کام بھی کرلیتے ہیں جن میں قلی گیری، پورٹر، کاروں کی دھلائی، ورکشاپ میں کام، صفائی کا کام، بجلی کی مرمت وغیرہ شامل ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا کام کرتے ہوئے پکڑے گئے تو سزا الگ اور سزا بھگتنے کے بعد اپنے ملک کو ڈی پورٹ کردئے جاتے ہیں۔ یہاں بندہ¿ مزدور کے اوقات صرف تلخ نہیں سخت ترین تلخ ہیں۔۔۔۔۔ جاری ہے
٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں