میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
صبیحہ ہاؤسنگ اسکیم میں بے ضابطگیوں کیخلاف تحقیقات

صبیحہ ہاؤسنگ اسکیم میں بے ضابطگیوں کیخلاف تحقیقات

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۲ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسپانسرز اور مالکان نے ملحقہ سرکاری (بھڈا) زمین پر ناجائز قبضہ کیا،اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ
منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق لازمی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں،معائنے میں انکشاف

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ نے حیدرآباد میںصبیحہ ہاؤسنگ اسکیم خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کر دی۔ انکوائری اسسٹنٹ ڈائریکٹر (انکوائری آفیسر) عبدالمنان کی نگرانی میں شروع ہوئی ہے، انکوائری میں یہ الزامات زیرِ تفتیش ہیں کہ صبیحہ ہاؤسنگ اسکیم کے اسپانسرز اور مالکان نے ملحقہ سرکاری (بھڈا) زمین پر ناجائز قبضہ کیا اور حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ڈی اے) کے قواعد و ضوابط کے مطابق لازمی عوامی سہولیات فراہم نہیں کیں، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی رپورٹ کردہ بے ضابطگیوں کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کنٹرول، ایچ ڈی اے نے اسکیم کا میدانی معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق لازمی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ اسکول، پارک اور مسجد کے لیے مختص رقبہ غیر قانونی طور پر رہائشی پلاٹس میں شامل کر دیا گیا۔ صبیحہ اسکیم کے مالکان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسکیم کی منظور شدہ حدود سروے نمبر 150 دیھ جامشورو، تعقلہ قاسم آباد سے تجاوز کرتے ہوئے اضافی رقبہ سرکاری زمین پر ناجائز طور پر شامل کیا گیا۔ ان خلاف ورزیوں اور جاری انکوائری کے پیشِ نظر ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کنٹرول، ایچ ڈی اے نے صبیحہ ہاؤسنگ اسکیم کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان کو فوری طور پر معطل؍منسوخ کر دیا ہے، جو انکوائری کی تکمیل اور نشاندہی شدہ امور کی درستگی تک برقرار رہے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں