رمضان کا پہلا جمعہ،10 ہزار فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی اجازت نہیں ملی
شیئر کریں
طویل قطاروں میں کھڑے سینکڑوں فلسطینی یروشلم میں داخلے کی اجازت کے منتظر ہیں
اسرائیل نے فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ کے احاطے تک رسائی محدود کر دی، الجزیرہ نیوز
بیت المقدس میں رمضان کے پہلے جمعہ کے روز اسرائیل نے فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ کے احاطے تک رسائی محدود کر دی۔ دس ہزار افراد کو مسجد اقصیٰ میں نماز کے لئے جانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ مسجد میں جانے کے لئے مغربی کنارے (فسلطین) سے آنے والے مسلمانوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ عرب میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے کہ رام اللہ کے قریب قلندیہ چیک پوائنٹ پر سینکڑوں فلسطینی طویل قطاروں میں کھڑے ہیں اور یروشلم میں داخلے کی اجازت کے منتظر ہیں۔ الجزیرہ نیوز نے بتایا کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس جمعہ کو مقبوضہ مغربی کنارے سے صرف 10,000 فلسطینیوں کو داخلے کی اجازت دے گا، جو پچھلے سالوں کے لاکھوں نمازیوں کا ایک قلیل حصہ ہے۔ Caption فلسطینی نمازی جمعہ، 20 فروری کو رمضان کریم کے پہلے جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ میں پڑھنے کی امید میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ اور مشرقی یروشلم کے درمیان اسرائیلی فوج کی قلندیہ چوکی سے گزرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔اسرائیلی حکام کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے سے خصوصی اجازت نامے کے ساتھ صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو آج کے دن مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی تاہم یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ اسرائیلی حکام نے بتایا کہ 12 سال سے کم عمر بچے، 55 سال سے زائد عمر کے مرد اور 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین ہی آج مسجد اقصیٰ میں جانیکے اہل ہوں گے۔ اسرائیل کے نیوز چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق صبح تک تقریباً 2 ہزار فلسطینی قلندیہ چیک پوائنٹ سے بیت المقدس کی جانب گزرنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کو علیحدہ کرنے والے چیک پوائنٹس پر اسرائیلی فوج کا ہائی الرٹ برقرار ہے۔


