میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گل پلازہ کے باہر قیامت کا سا سماں، اہلِخانہ معجزے کے منتظر

گل پلازہ کے باہر قیامت کا سا سماں، اہلِخانہ معجزے کے منتظر

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۱ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

کوئی باپ اپنے بیٹے کی واپسی کا منتظر تو کہیں کوئی بیٹا باپ کی ایک جھلک کیلئے بے قرار
کسی کی زبان پر بھائی کا نام ہے تو کسی کی آنکھوں میں بہن کی یاد آنسو بن کر ٹھہر گئی ہے

سانحہ گل پلازہ میں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ شدید کرب کا شکار ہیں اور ہ کسی معجزے کے منتظر ہے کہ ان کے پیارے زندہ سلامت واپس لوٹ آئیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والی خوفناک آتشزدگی کے بعد علاقے میں قیامت کا سا سماں ہے۔ملبے تلے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ شدید کرب اور بے چینی کا شکار ہیں، کوئی باپ اپنے بیٹے کی واپسی کا منتظر ہے تو کہیں کوئی بیٹا باپ کی ایک جھلک کے لیے بے قرار نظر آتا ہے، کسی کی زبان پر بھائی کا نام ہے تو کسی کی آنکھوں میں بہن کی یاد آنسو بن کر ٹھہر گئی ہے۔خوفناک آتشزدگی کے بعد لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ صدمے سے نڈھال ہیں، دل دہلا دینے والی بے بسی ہر چہرے سے جھلک رہی ہے۔ رشتے دار ہاتھ اٹھائے دعائوں میں مصروف ہیں، ہر دل میں ایک ہی امید ہے کہ شاید کوئی معجزہ ہو اور ان کے پیارے زندہ سلامت واپس لوٹ آئیں۔دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کے ملبے سے لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کا عمل تاحال جاری ہے، حادثے میں60 سالہ رمضان اور 27سالہ شیراز بھی لاپتہ ہیں، جن کے اہلِ خانہ ہر لمحہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعا گو ہیں۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ ملبے سے نکالی گئی بعض لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں، جن کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اسپتال پہنچ کر اپنے خون کے نمونے دے رہے ہیں، جو شناخت کے لیے جامعہ کراچی کی لیبارٹری بھجوائے جائیں گے۔کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 75افراد متاثر ہوئے۔ اب تک 26افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں سے 13 کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ باقی لاشوں کی شناخت ڈی این اے رپورٹس آنے کے بعد ممکن ہو سکے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں