
سفر یاد۔۔۔قسط45
شیئر کریں
مکہ المکرمہ سے مدینہ شریف کا فاصلہ تقریبا ساڑھے چار سو کلومیٹر ہے ، راستے بھر مشہور نعت مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ ذہن میں گونجتی رہی، ہماری آنکھیں سارے راستے پُر نم رہیں۔ مدینے کا راستہ محبت کی معراج کاوہ راستہ ہے جس پر بڑے بڑے صحابہ ، علما، صوفیہ اور بزرگان دین نے عقیدت کا سفر سر کے بل چل کر کیا۔ نبی کریم ﷺ کی محبت ہمارے ایمان کاحصہ ہے اور نبی کریم صلی علیہ وسلم نے مدینہ شریف کو اپنی محبت سے سرفراز فرمایا۔ مدینہ منورہ ایک زرخیز و سر سبز نخلستان ہے،اس کے شمال مغرب میں جبل سلع، جنوب میں جبل عیر اور وادی¿ عقیق ، شمال میں جبل احد واقع ہے، مدینے کا قدیم نام یثرب تھا، علما نے مدینہ کے پچانوے نام بتائے ہیں جن میں مشہور طابہ، طیبہ،مدینة الرسولﷺ، بیت رسول اللہ ، دارالفتح ، حرم رسول اللہ وغیرہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے اس قدر محبت تھی کہ جب کہیں سفر پر تشریف لے جاتے تو واپسی پر جب مدینہ قریب آجاتا اور اس کی عمارتیں دکھائی دینے لگتیں تو آپ ﷺاپنی سواری کو کمال شوق میں تیز کردیتے اور فرماتے طابہ آگیا۔ آپﷺ مدینہ کے قریب اپنی چادر مبارک شانہ اقدس سے گرا دیتے اور فرماتے کہ یہ طابہ کی ہوائیں ہیں ، صحابہ میں جو کوئی بوجہ گرد و غبار اپنا منہ ڈھانپ لیتا تو آپﷺ منع فرماتے کہ مدینہ کی خاک میں شفا ہے۔
ہماری بس راستے میں دو چھوٹے چھوٹے شہروں میں مختصر رکنے کے بعد شام پانچ بجے کے قریب مدینہ شریف پہنچی ، دل میں نبی اکرم ﷺ کا شہر، پیارے نبی کا روضہ دیکھنے کا ارمان مچل رہا تھا، بیگ ہوٹل میں رکھا اور فوری طور پرمسجد نبوی کی حاضری کے لیے نکل پڑے۔ سبز گنبد کی دید کے اشتیاق میں نظریں راستے پر یہاں وہاں بھٹک رہی تھیں، قدم اور دل کی دھڑکنیں تیزی میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ جیسے ہی سبز گنبد پر نگاہ پڑی دل میں اطمینان کی ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔ ذرا دیر میں ہم مسجد نبویﷺ کے فرش پر سجدہ ریز تھے، شکرانے کے نفل ادا کرتے ہی ہم روضہ رسول اللہ کی جانب چل دیے، روضہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم پر حاضری اور درود و سلام پیش کرنے کا موقع ملا تو گویا زندگی کا حقیقی مقصد حاصل ہوگیا۔
روضہ رسول صلی علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے تو روضہ پاک کی طرف دیکھنے کی تاب نہیں لاسکے۔ اپنا سر جھکا کر اپنی نظریں روضہ رسول کے دَر کی اس مقدس ترین زمین پر مرکوز کردیں جس کے مقدس ذرّوں پر رسول اللہ کے مقدس قدم پڑے تھے۔ کہاں نبی کریم کا دَر اور کہاں ہم سا دنیادار، گناہگار بندہ۔ پھر نبی اکرم کی رحمت گویا بادل بن کر قلب پر چھا گئی ،درِ نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم پر حاضری کے وقت آنکھوں میں آنسوو¿ں کی جھڑی لیے ہم نے اپنے لیے، اپنے گھروالوں کیلیے، رشتہ داروں اور تمام دوستوں کے لیے بطور خاص دعا کی۔ مسجد نبوی میں جگہ بدل بدل کر نوافل ادا کیے۔ سعودی حکومت نے مسجد نبوی میں عظیم الشان توسیع کی ہے، اب رسول اللہ کے زمانے کا تقریبا پورا مدینہ شریف مسجد نبوی میں سما گیا ہے۔ مسجد نبوی کی بنیاد رسول اللہ نے اپنے دست مبارک سے رکھی۔ اس مسجد کی ایک فضیلت ہے کہ اس میں پڑھی ایک نماز کا ثواب دیگر مساجد میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ علما کرام اس بات پر متفق ہیں کہ مسجد میں جتنی بھی توسیع ہوئی یا قیامت تک جتنی بھی ہو گی ، نئی جگہ پر بھی نماز پڑھنے کا ثواب اتنا ہی ہو گا جتنا ثواب اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں بنی ہوئی مسجد میں تھا۔ مسجد نبوی کے مختلف گوشوں کو چومتے اور نفلی عبادات کرتے ہم نے عشا ادا کی۔ نبی پاک کی مسجد میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد بھی نہ بھوک پیاس کا احساس تھا نہ کسی قسم کی تھکن محسوس ہو رہی تھی۔ مجبوری تھی کہ بس کو واپس مکہ روانہ ہونا تھا اس لیے نا چاہتے ہوئے بھی مسجد نبوی کو الوداع کہنا پڑا۔ آنکھوں میں آنسوو¿ں کی لڑی لیے ہم نے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں الوداعی حاضری دی، درِ رسول پر سلام کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد بوجھل دل کے ساتھ ہوٹل پہنچے، جہاں بس روانگی کے لیے تیار کھڑی تھی۔ اپنا بیگ اٹھا کر بس میں سوار ہوگئے، واپسی کے سفر میں پورے راستے دل مدینہ منورہ میں ہی اٹکا رہا۔ رات کو مکہ پہنچے اور سیدھے حرم پاک کا رخ کیا کعبہ شریف کے سامنے دیر تک نوافل اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد ہوٹل پہنچے جہاں کچھ دیر کیلیے آنکھ لگ گئی۔ ریاض سے روانہ ہونے سے پہلے ہم جدہ میں موجود ایک دوست کو اپنی آمد کی اطلاع دے چکے تھے اور صبح دس بجے اس کا آنا طے تھا۔۔۔ جاری ہے
٭٭