ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!
شیئر کریں
ب نقاب
۔۔۔۔۔
ایم آر ملک
ہمارے زمانے کی نمایاں تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک اوسط درجے کی روح اور معمولی ذہن رکھنے والا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اوسط ہے، اتنی جرأت رکھتا ہے کہ اپنی اوسطیت کے حق کا دعویٰ کرتا ہے اور جہاں موقع ملے خود کو دوسروں پر مسلط کرنے لگتا ہے۔”یہ الفاظ ٹرمپ پر پورا اُترتے ہیں ۔
ٹیپو سلطان اور بنگال کے فرمان روا سراج الدولہ کے خلاف اس وقت کے غداروں میر جعفر اور میر صادق نے غداریاں کیں اور ان کو شکست دلوائی ۔لیکن وہ دو بادشاہ تھے اور محدود ٹیم ہو گی لیکن ایران میں ایک منظم جماعت اور ایک چین آف کمانڈ ہونے کے باوجود ایک منظم غداروں کا نیٹ ورک کا یوں فعال ہونا اچنبھے کی بات ہے ۔چنانچہ ایک انتہائی معروف اور ویژنری ایرانی سابق صدر احمدی نژاد کو برملا کہنا پڑا کہ صہیونی ایجنٹوں کے رسوخ سے نبٹنے کے لیے ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا اور بعد میں پتا چلا کہ اس ادارے کا سربراہ اور کئی ممبر بھی غدار وطن اور صہیونی ایجنٹ تھے ۔
حماس کے سربرا ہ کا ایران میں انتہائی منظم قتل اور بآلاخر سب سے طاقت ور شخصیت کو حفاظتی بنکر سے نکال کر دفتر میں قتل کیا گیا اور قتل کے بعد میت کی تصویر نیتن یاہو اور ٹرمپو کو ارسال کی گئی ۔ سوال یہ ہے کہ ایران میں غداروں کی اتنی کھیپ جو اعلیٰ سطح تک رسوخ رکھتی ہے کیسے پنپ رہی ہے ۔اور جب تک اس پر قابو نہ پایا جا سکے، اسرائیل اور امریکہ سے جنگ کیونکر ممکن ہے ۔
ایران اپنے جغرافیے کی بنا پر نا قابل تسخیر ہے لیکن اندرون خانہ چھپے ہوئے غدار اس کے موثر دفاع کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،
ایران کو یہ بات اس وقت سمجھ لینی چاہیے تھی جب 31 جولائی 2024 کو تہران کے عین وسعت میں انتہائی سیکورٹی میں اسمائیل ہانیہ کو اسرائیل نے انتہائی درستگی کے ساتھ ٹارگٹ کیا اورتب اسرائیل کے شیطانی صفت وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کو دھمکی آمیز الفاظ میں کہا
”اسرائیل ایران کے اندر تک گھس گیا ہے اور تمام اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے” ۔ تب ایران کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تھے ، غدار اور جاسوس نیٹ ورک پکڑنا چاہیے تھا ۔پھر دو ماہ کے بنکر کے اندر حسن نصراللہ شہید کر دیا جاتا ہے ۔جون 2025 میں بھی خامنائی اہداف میں شامل تھے۔ اس بار جاسوس اور اندر کے مخبر پہلے حملے کی ساری معلومات دے چکے تھے ۔اسرائیل اور امریکہ کا حملہ رات کا پلان تھا لیکن جاسوس نیٹ ورک نے پہلے لوکیشن اور معلومات دی تو حملہ صبح دفتری اوقات میں کیا گیا ۔موساد نے ایران میں جاسوسی کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی بنایا ہے، جس میں ایرانی عہدیداروں کو اپنے ساتھ ملایا گیا ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی حملہ کیا ہے، جس میں ایران کے چند اہم عہدیدار شہید ہوئے ہیں ۔
اسرائیل کو بخوبی اندازہ ہے کہ ایران کے لوگ بہت جرأت والے اور دلیر ہیں ،ایران کے ساتھ اس نے ٹکر لی ہے تو ایران کا ایک کمزور پہلو دیکھ کر اور وہ پہلو ہے ایران کے اندر کچھ غداردس لاکھ سے زیادہ یہودی۔ جو بظاہر ایران کے وفادار اور ایران کے اندر اعلیٰ پوسٹوں پہ فائز ہیں، وہ موقع ملتے ہی ساری خبریں اسرائیل کو بالواسطہ اور بلا واسطہ بھیجتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے لیڈرز ڈائیریکٹ حملوں کی زد میں آتے ہیں،دوسرا ایران نے کافی عرصہ تک بھارت کا ساتھ دیا اور پس پردہ پاکستان کو نفع نہ پہنچایا تو کنارہ کش رہا۔ایران میں اب تک نقصانات اور استقامت کی بڑی وجہ مقامی وطن فروش غدار ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے اندر امریکا و اسرائیل نے جاسوسی کا جس قسم کو مضبوط جال بچھایا ہوا ہے، اس کے بعد دونوں دجالوں کو گمان تھا کہ پہلے مرحلے میں پہلے اور دوسرے درجے کی سیاسی و انقلابی فوجی قیادت کے خاتمے کے ساتھ ہی پورا ایران ان کی جھولی میں آگرے گا، غالباً وطن فروش غداری سے جڑے وسیع نیٹ ورک نے اسی کی منصوبہ بندی سے آگاہ بھی کیا ہو۔
دشمن اور وطن فروش غداروں نے چند ماہ قبل خوفناک ہنگاموں کے ذریعے ایک جھلک دکھا بھی دی تھی اور کئی روز تک ایران کے نظام حکومت و زندگی کو مکمل مفلوج کیے رکھا، مگر ایرانی حکومت اور قیادت نے موقع ملتے ہی سب سے پہلے وطن فروش غداروں کے وسیع نیٹ ورک میں سے ایک بڑی تعداد کو انجام تک پہنچایا اور ہنگاموں میں ملوث عناصر کو سختی سے کچل دیا۔ دعویٰ ہے کہ ہزاروں غداروں کو انجام تک پہنچا کر ان کا ملک گیر مضبوط و مربوط نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ وطن فروش غداروں کا یہ نیٹ ورک ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے وسیع پیمانے پر تو باہر آنے کو تیار نہیں مگر قیادت اور اہم اداروں کی مخبریاں کرکے اہم شخصیات کو نشانہ بنوا رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی، گزشتہ روز سیکیورٹی کونسل کے علی لاریجانی اور پولیس چیف سلیمانی سے لیکر پاسداران کے عام لوگوں اور مقامات تک کا نقصان اسی نیٹ ورک کی وجہ سے ہے، حکومت اور نظم نے اس نیٹ ورک کے وسیع سلسلے اور ربط کو تو توڑا ہے، مگر دشمن کی دہائیوں سے کی ہوئی سرمایہ کاری کے اثرات ابھی بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔دعویٰ ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں 500 سے زائد ایسے وطن فروش غداروں سے منسلک افراد کو سازو سامان سمیت پکڑ لیا گیا ہے، جس میں اسٹار لنک کی ڈیوائسز کی ایک بڑی کھیب بھی شامل ہے۔
مقامی میڈیا نمائندوں اور سوشل میڈیا سے افراد کے مطابق عوامی سطح پر ایران کی موجودہ قیادت و حکومت پر چند ماہ قبل کے مقابلے میں اعتماد و تعاون کئی گنا بڑھ گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک دشمن ایرانی حکومت کے خاتمے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
اگر ہم عصر حاضر کا جائزہ لیں تو آج دنیا کی تاریخ بدل گئی ہے ۔ وہ واقعہ ہوا ہے جس کا کم از کم آج کی نسل نے اپنی زندگی میں سوچا بھی نہ تھا ۔امریکا کو پوری دنیا سے انکار سننا پڑا ہے ۔ برطانیہ ،فرانس، جاپان،ا سپین، آسٹریلیا ،جرمنی ،چین سب نے وقت کی سپر پاور کو نو یعنی یس سر کے بجائے پہلی بار نہ کر دی ہے۔ اور امریکی صدر ان سب کو بدعائیں دے رہا ہے ۔نیٹو والوں کو کہا تمہارے ساتھ بہت برا ہوگا۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے تو باقاعدہ بے عزت کیا ہے ۔جواب میں ٹرمپ نے کہا ہم یاد رکھیںگے ۔ امریکی صدر نے کہا تھا کہ اپنے جہاز بھیجو۔ آبنائے ہرمز کھلواؤ ،لیکن سب نے نو کر دیا ۔وقت بدل گیا ۔زمانہ بدل گیا ۔ایک دن میں دنیا بدل گئی ۔صدیوں کا سفر طے ہوا ۔یورپ ایشیا سب امریکا کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ سب یک زبان ہو کر بولے ،نو سر یہ جنگ آپ کی ہے ،آپ نے شروع کی تھی ،بغیر کسی وجہ کے شروع کی ہے ، کسی مشاورت کے بغیر شروع ہے ،اس کو انجام تک بھی آپ نے ہی پہنچانا ہے ، امریکی اڈے جو دنیا میں خوف کی علامت ہوتے تھے، ایک ایک کرکے ختم ہو تے جا رہے ہیں۔کوئی ملک اپنی سرزمین دینے کو تیار نہیں ۔امریکی سفارت خانے بند ہو رہے ہیں ۔ آبنائے ہرمز سے صرف وہ گزر سکتا جو جنگ مخالف ہو یعنی امریکا، اسرائیل مخالف ۔ یا جسے اجازت دی جائے ۔جنگیں ہو یا الیکشن آپ دوستوں کے سر پر لڑتے ہیں ۔امریکا نے اس جنگ میں دوست کھو دیے ہیں ۔ امریکا تنہا ہے ۔ امریکا نے کسی قانون کا احترام نہیں کیا۔ ایک کمزور ملک کے صدر کو اٹھا کر لے گئے ۔ کسی کو پھانسی چڑھا دیا ۔کسی کو جلا وطن ،کہیں بغاوت کرا دی ۔لیکن آج امریکا کو ہر طرف سے انکار سننا پڑا ہے ۔کس نے سوچا تھا ایران جیسا پابندیوں کا شکار ملک ان کو اس طرح کی مصیبت میں مبتلا کر دے گا ۔دنیا پر سدا بادشاہی میرے رب کی!
ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ جب کوئی ایک امریکی بیڑا حملے کی دھمکی کے ساتھ کسی ملک کی طرف بڑھتا تھا توبیڑے کی روانگی کے ساتھ ہی اُس ملک کی فوجیں سرنڈر کرتی تھیں،حکمران کرسی چھوڑ دیتے تھے،سیاستدان چاپلوسی شروع کردیتے تھے۔اور امریکہ آسانی سے اُس ملک پر قبضہ کرکے وہاں اپنے اڈے قائم کردیتا تھا،اپنی کٹھ پتلی حکومت تشکیل دیتا تھا،اور وہاں کے وسائل جی بھر کر لوٹتا تھا،لیکن اس بار اُس کا سامنا حیدر کرار کے پیروکاروں سے ہوا ہے جو پلٹ پلٹ کر وار کرنے کی صفت اور روایت رکھتے ہیں،اس دفعہ اُس نے صرف ایک بیڑا نہیں بلکہ کئی بیڑے بھیجے، فوجیں بھیجیں، فائٹر جیٹس سارے ایران کے گرد جمع کیے، ہمسایوں کے ذریعے پریشر بنایا۔لیکن علی خامنہ ای ڈٹا رہا،پھر اس پلانٹڈ پاگل نے واقعتا پاگل ہوکر تاریخ کی وہ غلطی کی کہ جس کی وجہ سے اب امریکہ اُن تمام ریاستوں کے وسائل اور اپنے قائم کردہ اڈوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے جن پر اس نے فقط رعب جماکر قبضہ کیا ہوا تھا۔حیدریوںنے اس نجاست کے منہ پر وہ زور دار تاریخی طمانچہ رسید کیا ہے کہ جنگ کے اختتام تک یہ مزید پاگل ہوگا اور اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کا آغاز تو کریگا مگر کبھی نہیں سنبھل پائے گا۔
اس کا انجام فرعون جیسا ہوگااور اسرائیل کا وجود باقی نہ رہ سکے گا!
٭٭٭


