میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ پر لینڈ مافیا کی سرپرستی کا الزام

کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ پر لینڈ مافیا کی سرپرستی کا الزام

ویب ڈیسک
منگل, ۲۰ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

جامعہ کی قیمتی زمینوں پر قبضوں میں وائس چانسلر اور انکا ماتحت عملہ ملوث ہے ،الزام
قبضوں کے دوران خاموشی اختیار کیوں کی؟رجسٹرار ڈاکٹر عمرا ن کا خط مذاق بن گیا

جامعہ کراچی کی بیش قیمت اراضی پر خود یونیورسٹی انتظامیہ کی مدد سے غیر قانونی قبضے اور پیٹرول پمپ کی تعمیر کے بعد شہری و تعلیمی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا ہو چکی ہے۔ جامعہ کراچی کی قیمتی زمینوں پر مسلسل قبضوں کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ پر سنگین سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ مختلف شہری حلقوں سے گزشتہ دنوں نہایت شدت سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ جامعہ کی انتہائی قیمتی زمینوں پر قبضوں میں وائس چانسلر اور انکا ماتحت عملہ ملوث ہے۔ یہ الزام اس لیے بھی تقویت پا رہا تھا کہ قیمتی زمینوں پر قبضے ہونے تک یونیورسٹی انتظامیہ کا کوئی فعال کر دار سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم گزشتہ دنوں یہ خبر گردش کرتی رہی کہ رجسٹرار جامعہ کراچی ڈاکٹر عمران کی جانب سے ایک خط سندھ حکومت کو لکھا گیا ہے جس میں کراچی یونیورسٹی کی زمین پر قبضے کے حوالے سے مدد طلب کی گئی ہے ۔مذکورہ خط میں یہ ذکر بھی کیا گیا ہے کہ25ستمبر 2025ء کو بھی اس معاملے کی نشاندہی کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تھی۔تاہم یونیورسٹی کے حلقوں میں رجسٹرار کا یہ خط ایک مذاق بن چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے حلقوں میںیہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ رجسٹرار یا شیخ الجامعہ کی جانب سے 25ستمبر سے قبل اس پر آواز کیوں نہیں اُٹھائی گئی جب یونیورسٹی کی قیمتی اراضی پر دھڑلے سے تعمیرات جاری تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی اس پراسرار خاموشی نے لینڈ مافیا کے کرتا دھرتاؤں کے لیے یہ آسان بنایا کہ وہ بغیر کسی رکاؤٹ کے اپنی تعمیرات مکمل کر سکیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی انتظامیہ سے یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ جامعہ کراچی کی زمین پر ایک پیٹرول پمپ 2024-25 سے تعمیر ہو رہا ہے ، مگر اس پر طویل عرصے تک پراسرار خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ پیٹرول پمپ کی تعمیر کے لیے قواعد کے مطابق متعدد اداروں کی جانب سے این او سی جاری کیے گئے ہیں، واضح طور پر این او سی جاری کرنے سے قبل متعلقہ اداروں کی جانب سے جامعہ کراچی کے متعلقہ شعبوں بشمول رجسٹرار کے دفتر کو یقینی طور پر خطوط بھی جاری کیے گئے ،مگر تب یونیورسٹی انتظامیہ خاموش تماشائی بن کر بیٹھی رہی اور قبضہ مافیا کو تمام اداروں سے متعلقہ این او سی لینے دیا اور اُنہیں سرے سے اپنے اعتراضات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ قبضوں کے دوران میں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، اسٹیٹ آفیسر نورین شارق، کیمپس سیکو رٹی افسر ڈاکٹر سلمان زبیر اور دیگر اداروں کے لوگ منہ پر تالے لگائے بیٹھے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خاموشی کتنی ”بامعنی” اور کتنی قیمت لگانے کے لیے تھی۔ واضح رہے کہ اس حوالے سے رجسٹرار جامعہ کراچی ڈاکٹر عمران سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، مگر اُنکی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں