(ڈائریکٹر جنرل سیپا کا ایکشن) غیر ملکی نیشنل، کیمسٹ کامران عہدوں سے فارغ
شیئر کریں
8سال سے سفارشات پرذرخیز شعبوںمیں تعینات رہے ، بعض اوقات ایک سے زائد عہدے رکھے
مہران ٹامی فیکٹری کے واقعے یا کیماڑی گیس لیک جیسے تمام سنگین ماحولیاتی حادثات میں شامل رہے
محکمہ ماحولیات کے ماتحت سیپا میں کینیڈین نیشنل اور پی ایچ ڈی فیل کامران کیمسٹ تمام عہدوں سے فارغ، ڈپٹی ڈائریکٹر لیبارٹری تعینات، کورنگی اور ملیر میں نئے انچارج تعینات ہو گئے۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق محکمہ ماحولیات سندھ کے ماتحت ادارے سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سیپا میں نئے ڈائریکٹر جنرل وقار حسین پھلپوٹو کی آمد بعد ادارے میں بہتری نظر آنا شروع ہوئی ہے، ڈی جی سیپا نے کئی سال سے انتظامی عہدوں پر تعینات ڈپٹی ڈائریکٹرلیب محمد کامران خان کو کورنگی ضلع کے انچارج کے عہدے سے فارغ کر کے عبد الروف میمن کو تعینات کیا ہے، محمد کامران لیبارٹری میں تعینات ہونگے، ملیر کے انچارج منیر احمد عباسی کو فارغ کر کے محمد اظہر خان کو تعینات کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کامران خان بنیادی طور پر لیبارٹری افسر ہیں جن کا کام آلودگی کے نمونوں کا تجزیہ کرنا اور رپورٹس تیار کرنا ہے، تاہم وہ گزشتہ 8 سالوں سے کسی نہ کسی سفارش پر ایک یا بعض اوقات ایک سے زائد اضلاع کے انچارج کے طور پر تعینات رہے، جو سیپا کے تکنیکی قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کامران خان، جو "پی ایچ ڈی فیل” اور "کینیڈین افسر” کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، 2018 میں اپنی پانچ سالہ تعلیمی چھٹی کے بعد کینیڈا سے پاکستان واپس آئے تھے۔ اس وقت وہ بغیر کسی تعلیمی سند کے واپس لوٹے تھے، 8 سالہ تعیناتی کے دوران، وہ بڑے عہدیداروں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ وہ یہ دعوی کرتے رہے کہ ان سے کوئی بھی کام کروایا جا سکتا ہے، اور اگر کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے تو وہ بطور کینیڈین نیشنل کینیڈا واپس چلے جائیں گے، جس سے کام کرنے والوں پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ اسی وجہ سے، مہران ٹان فیکٹری کے واقعے یا کیماڑی گیس لیک جیسے تمام سنگین ماحولیاتی حادثات میں کامران خان کا نام کسی نہ کسی سطح پر ضرور شامل رہا ہے۔ مذکورہ افسر نے آٹھ سال تک شعبہ مانیٹرنگ میں اپنے اختیارات کا غیر معمولی استعمال کیا، جس سے کئی بڑے عہدیدار بھی ان کی کارکردگی سے نالاں ہو گئے۔ اب کسی بڑے عہدیدار کی حمایت نہ ہونے کے باعث، نسبتا بہتر سمجھے جانے والے نئے ڈائریکٹر جنرل وقار پھلپوٹو نے بغیر کسی مزاحمت کے انہیں مانیٹرنگ کے شعبے سے ہٹا دیا ہے۔ اب وہ اپنی اصل پوسٹ کے مطابق لیبارٹری میں کام کرنے کے پابند ہیں اور اس کے لیے کسی علیحدہ تقرری نامے کی ضرورت نہیں ہے۔


