میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۹ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

اقتصادی اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر چاہ بہار پورٹ نہ صرف ایران بلکہ بھارت اور افغانستان کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ بھارت کے لیے ایران، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی تجارتی منڈیوں تک رسائی میں جغرافیائی اعتبار سے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ان علاقوں تک تمام زمینی راستے پاکستان ہی سے ہو کر گزرتے ہیں۔بھارت نے اسی وجہ سے اپنی ملکی سرحد سے نو سو کلومیٹر کی دوری پر واقع چاہ بہار میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، کیوں کہ یہ بندرگاہ بھارت کا ان منڈیوں تک رسائی کا یہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیتی ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ سے بھارتی اور افغان معیشتوں کو خاص طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ”ابھی تک اس بندرگاہ نے مکمل طور پر کام کرنا شروع نہیں کیا لیکن ممکنہ طور پر یہ بندرگاہ خطے میں کھیل پلٹ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔”
ایران کی چاہ بہار بندرگاہ خطے کی ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے جس میں بھارت کی بڑی سرمایہ کاری شامل ہے۔ اس بندرگاہ کو عمومی طور پر عسکری اہداف سے الگ رکھا جاتا ہے کیونکہ یہاں بین الاقوامی تجارت اور علاقائی اقتصادی منصوبوں سے جڑے مفادات موجود ہیں، اسی لیے کسی ممکنہ کشیدگی میں اسے نشانہ بنانا بڑے سفارتی اور معاشی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ مودی کے دورہ اسرائیل نے عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی سے دوچار کر دیا۔ ایران پر حملے سے عین قبل اسرائیل یاترا کی ٹائمنگ نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو ذاتی مفادات کی نذر کر دیا۔ مودی نے دورہ اسرائیل میں نیتن یاہو کو ایران کے خلاف ممکنہ امداد کی یقین دہانی کروائی۔ سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر ڈگلس میکگریگر کے مطابق امریکی بحری جہاز بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو کر سامان اتار رہے ہیں۔ ریٹائرڈ امریکی کرنل ڈگلس میکگریگر کے مطابق امریکی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے۔ مودی نے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں ”پوسٹر بوائے” کے طور پر استعمال ہوئے۔ مودی کا اصل ہدف نیتن یاہو کے ذریعے ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی تھا۔ مودی نے ٹرمپ سے دوستانہ تعلقات کے بدلے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں انکی مدد کی۔ مودی کا دورہ متنازع اسرائیلی حکومت کیلئے سیاسی سہارا بنا۔ مودی کواسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ”میڈل” محض نمائشی تھا۔ مودی کا ایران حملے سے پہلے دورہ اسرائیل مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک عمل تھا۔
بھارت نے اسرائیل کوغزہ میں نسل کشی کے لئے ہر طرح کی امداد دی۔ ایران کے معاملے پر مودی اپنے سیاسی مفاد کی وجہ سے خاموش رہے۔ کیا قومی وقار پر کاروباری مفادات کو ترجیح دی گئی؟ کیا ایک کاروباری فائدے کے لئے مودی ایرانی قیادت کی ہلاکت پر خاموش رہے ؟
بھارتی اپوزیشن نے دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ایران سے بے وفائی کہا۔ کانگریس، کیمونسٹ پارٹی، مقبوضہ کشمیر کی سیاسی لیڈرز اور سول سوسائٹی کی مودی کی منافقانہ سیاست پر کھلی تنقید کی۔ اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟ سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے دورے کو بھارت کی روایتی پالیسی سے انحراف قرار دیا۔ ملک کے اندر بھی عوامی سطح پر شکوک و شبہات اور تنقید میں اضافہ ہوا۔ مودی نے ایران سے تمام فائدے اٹھا کر آنکھیں پھیر لیں۔ بھارت نے خود کو ناقابلِ اعتبار اتحادی ثابت کیا۔سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ کیا مودی کا دورہ اسرائیل چابہار بندرگاہ کے تحفظ کیلئے پس پردہ یقین دہانیوں کے لئے تھا؟ اڈانی گروپ کی اسرائیلی حیفہ اور ایرانی چابہار بندرگاہوں میں سرمایہ کاری ہے۔ مودی نے اپنے دیرینہ دوست گوتم اڈانی کے کاروباری مفادات بچانے کے لئے اسرائیل کو درخواست کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اور امریکی بمباری میں چابہار بندرگاہ محفوظ رہی۔دوسری وجہ یہ تھی کہ وقت آنے پر امریکہ و اسرائیل چاہ بہار میں بیٹھ کر ایران کے خلاف سازشیں کرتے۔ رجیم چینج کرنے کے لیے ایرانی عوام کو اکساتے اور انہیں مدد فراہم کرتے۔
بھارت کی جانب سے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے دستبرداری کے فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔بھارت نے معمولی امریکی دباؤ کے بعد ایران کے ساتھ کیا گیا ایک اہم معاہدہ ترک کر دیا، جسے ماہرین بھارت کی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ پابندیوں کے نفاذ سے قبل بھارت نے تہران کو معاہدے کے تحت طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ تاہم بعد ازاں، چاہ بہار منصوبے سے منسلک سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے بورڈ پر موجود تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا۔ کمپنی کی ویب سائٹ اچانک بند کر دی گئی، جس کا مقصد امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق اداروں اور افراد کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے بظاہر چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری تجارتی مقاصد کے لیے کی، لیکن خدشہ ہے کہ اس منصوبے کے پس پردہ دیگر اسٹریٹجک عزائم بھی موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ دراصل خاص طور پر چاہ بہار منصوبے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کی صورت میں کمپنی کی سرگرمیوں اور اصل کردار سے پردہ اٹھ سکتا تھا، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا امکان تھا۔ بعض ماہرین کے مطابق، اس بندرگاہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ممکنہ سرگرمیوں کے شبہات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد ایرانی حکام پہلے ہی چاہ بہار بندرگاہ اور اس سے منسلک سرگرمیوں پر الرٹ تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انہی خدشات کے پیش نظر بھارت نے اس منصوبے سے علیحدگی کو اپنے مفاد میں بہتر سمجھا۔ چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری بھارت کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں وہ اصولوں پر مبنی اور متوازن خارجہ پالیسی کی بات کرتا ہے۔ اس اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ بھارت نے طویل المدتی شراکت داری اور وعدوں کو وقتی مفادات کی خاطر نظرانداز کیا۔ بھارت اور اسرائیل کے اہم معاہدہ میں چابہار بندرگاہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے میں چاہ بہار بندرگاہ کو کسی بھی قسم کے نقصان یا تباہی سے بچانے کا عزم کیا گیا ہے تاکہ علاقائی تجارتی راستے محفوظ رہیں۔
چابہار بندرگاہ کو بین الاقوامی شمالیـجنوبی تجارتی راہداری کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جس کا مقصد افغانستان تک تجارتی سامان اور انسانی امداد پہنچانا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کے راستے کو نظرانداز کر کے سامان کی ترسیل ممکن بنائی جائے گی۔ یہ راستہ خاص طور پر اس لیے منتخب کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کے ذریعے کسی بھی طرح کی نگرانی یا رکاوٹ کو عبور کیا جا سکے اور بھارت و اسرائیل افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آزادانہ متحرک رہیں۔ چابہار منصوبہ درحقیقت بھارت کی ابلیسی حکمت عملی ہے۔ جس میں پاکستان کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں