عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار
شیئر کریں
قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی
انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا
سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے۔ دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ وہ دو سال سے زائد عرصے سے اپنے والد سے نہیں مل سکے۔ ویزے کے لیے درخواست جمع کرادی ہے مگر ابھی تک جواب نہیں ملا۔ عمران خان کے وکیل نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ حراست کے دوران سابق کپتان کی دائیں آنکھ کی بینائی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ تاہم پیر کے روز ایک میڈیکل بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ علاج کے بعد سوجن میں کمی آئی ہے اور بینائی میں بہتری ہوئی ہے۔ لندن میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے 26 سالہ قاسم اور 29 سالہ سلیمان نے میڈیکل رپورٹ پر غیر یقینی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ جمعرات کو ستمبر کے بعد پہلی مرتبہ اپنے والد سے بات کی۔ قاسم کے مطابق ان کے والد عموماً اپنی صحت کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہیں تاہم اس مرتبہ انہوں نے شکوہ کیا کہ چند ماہ تک آنکھ کے علاج تک رسائی نہیں دی گئی۔ قاسم نے کہاکہ اتنے طویل عرصے تک دور رہنے کی وجہ سے دل گرفتہ ہونا فطری بات ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو کسی مناسب طبی سہولت منتقل کیا جائے اور انہیں اپنے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ طبی کارروائیاں جاری ہیں اور اپوزیشن کے غفلت کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کے علاج سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن اور دفترِ خارجہ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ قاسم نے مزید کہا کہ ان کی فوری تشویش والد کی صحت ہے، تاہم دیگر اہم امور میں ”ان کی آزادی، انسانی حقوق کے تقاضوں کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور شفاف ٹرائل کی فراہمی” بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ نشریاتی اداروں کو عمران خان کا نام، تقاریر یا تصاویر نشر کرنے سے روکا گیا ہے اور گرفتاری کے بعد سے اب تک صرف ایک عدالتی تصویر ہی منظرِعام پر آئی ہے۔



ویب ڈیسک
هفته, ۲ جولائی ۲۰۲۲