سندھ بلڈنگ ،بہادرآباد میں تعمیراتی مافیا کی سرپرستی، بلند عمارتیں ضابطوں کا مذاق
شیئر کریں
بلاک 3پلاٹ 105اور 7/2دارالامان ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات کی دھماچوکڑی
اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ پر ضابطوں سے چشم پوشی کے الزامات،شہری زندگیاں خطرے میں
شہر قائد کے علاقے بہادرآباد میں تعمیراتی مافیا نے شہری ضابطوں اور بلڈنگ قوانین کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر بلند عمارتیں کھڑی کر دی ہیں۔ بلاک 3 میں واقع پلاٹ نمبر 105 اور 7/2 دارلامان ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹس پر ضابطے کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف شہری نظم و ضبط کو چیلنج کر رہی ہیں بلکہ رہائشیوں کی جانوں کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر میں بنیادی سیکورٹی اور تعمیراتی معیارات کو بالکل نظرانداز کیا گیا ہے ۔ بغیر کسی منظور شدہ پلان کے تعمیر ہونے والی یہ عمارتیں زلزلے یا کسی بھی قسم کے حادثے کے موقع پر بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہیں، ان پر الزام ہے کہ وہ ان غیرقانونی تعمیرات پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور ضابطوں کے باوجود کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ ایس بی سی اے کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ کئی بار ان خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی، لیکن بااختیار افسران نے انہیں نظرانداز کر دیا۔شہری حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو گرایا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں اس قسم کی غیرمنظم تعمیرات شہر کے ڈھانچے کو تباہ کر دیں گی۔سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ سے اب یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آیا شہریوں کی حفاظت اور شہری منصوبہ بندی کے ضابطے محض کاغذی کارروائی ہیں، یا پھر ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا؟ بہادرآباد کی یہ عمارتیں صرف عمارتیں نہیں، بلکہ نظام کی ناکامی اور اداروں میں گہرے بیٹھے بدعنوانی کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔


