این آئی سی وی ڈی میں سنگین مالی بدعنوانیاں بے نقاب، اربوں اڑا دیے
شیئر کریں
غیر مجاز بھرتیاں، قواعدکی خلاف ورزیاں،تقرریوں، غیر معمولی زائد تنخواہوں کا بھی انکشاف
ادارے کی46سنگین مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں پر ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کاوزیراعلیٰ کوخط
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی)کے سربراہ ڈاکٹر طاہر صغیر کی مبینہ بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے این آئی سی وی ڈی کراچی میں مالی بدعنوانیوں، بدانتظامیوں اور طبی آلات و ادویات کی خریداری میں سنگین بے ضابطگیوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو خط ارسال کیا ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ کی مالی سال 2024۔25 کی رپورٹ کے مطابق این آئی سی وی ڈی میں 46 سنگین مالی اور انتظامی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔خط میں بتایا گیا ہے کہ تنخواہوں کے مد میں زائد ادائیگیوں اور بلاجواز ترقیوں کے باعث این آئی سی وی ڈی نے قومی خزانے کو 4.80ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔آڈٹ رپورٹ میں غیر مجاز بھرتیوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقرریوں، اور غیر معمولی طور پر زائد تنخواہوں کا بھی انکشاف کیا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق نان پریکٹسنگ الاؤنس کے تحت ڈاکٹروں کو لاکھوں اور کروڑوں روپے کی زائد ادائیگیاں کی گئیں۔ ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں 569 ملین روپے کی بے ضابطگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس کے علاوہ غیر مجاز اخراجات اور اضافی ادائیگیوں کے باعث قومی خزانے کو 400ملین روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔آڈٹ رپورٹ میں ٹیکس کی کٹوتی میں ناکامی اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے شواہد بھی پائے گئے ہیں۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے این آئی سی وی ڈی میں تمام بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ این آئی سی وی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر صغیر کی مبینہ بدعنوانی اور نااہلی کے باعث یہ آڈٹ رپورٹ صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے ۔اس معاملے سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) سمیت دیگر متعلقہ اداروں اور نگرانی کرنے والی ایجنسیوں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ این آئی سی وی ڈی میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کی جا سکے ۔


