میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستانی شناختی کارڈ والے افغانیوں کیخلاف کریک ڈاؤن

پاکستانی شناختی کارڈ والے افغانیوں کیخلاف کریک ڈاؤن

ویب ڈیسک
هفته, ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے کی جانیوالی کارروائیوں میں نیا موڑ
افغانی قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار،شناختی کارڈ بلاک ہونا شروع ہو گئے،ذرائع

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے کی جانیوالی کارروائیوں میں نیا موڑ، پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنیوالے افغانیوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کر کے معاملہ جلد اور حتمی طور پر نمٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔خیبرپختونخوا سمیت پاکستان بھر میں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرنے والے افغان باشندوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر سخت تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان افغانیوں کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی ملک بدری کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور پولیس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ساتھ مل کر ان افراد کے خلاف خفیہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جو جعلی یا دو نمبر شناختی کارڈز کے ذریعے بیرون ملک مقیم ہیں۔ اس سلسلے میں کی جانیوالی کارروائیوں کے دوران کئی افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے، جن میں وہ عناصر شامل ہیں جو پولیس کے خلاف الزامات عائد کر رہے تھے۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع پشاور، سوات، مہمند، باجوڑ، خیبر، نوشہرہ، چارسدہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر علاقوں میں فیملی ٹری کی بنیاد پر ازسرِنو تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، اور اس دوران متعدد افغانیوں کے شناختی کارڈ بلاک ہونا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ اس دوران ان کے سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی سطح پر مختلف اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ایسے تمام افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی یقینی بنائیں جنہوں نے غیر قانونی طور پر پاکستانی شناخت حاصل کر رکھی ہے۔ افغانوں کی واپسی کیلئے کوششیں تیز کرتے ہوئے حکومت اس بار سخت ترین اقدام اٹھانے کے لیے پُرعزم ہے۔اہم ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ضلع پشاور میں کینٹ سمیت دیگر اندرون شہر میں بسنے والے ان افغانیوں کے بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جنہوں نے پاکستانی پاسپورٹ شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں، جبکہ ان کے نام کی جائیدادوں کی بھی جو انہوں نے پشاور میں خریدی ان کی چھان بین شروع کر دی گئی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں