میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !!

مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !!

ویب ڈیسک
پیر, ۱۸ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

ہمارے معاشرے میں سب سے سستی چیز اگرکوئی ہے تو وہ مشورہ ہے ،ایسا مشورہ،جو دینے والے کی جیب سے کچھ نہیں لیتا لیکن سننے
والے کے دل پر بوجھ ڈال دیتا ہے ،کوئی آدمی بے روزگار ہوجائے تو لوگ فوراً کامیابی کے لیکچر لے کر پہنچ جاتے ہیں۔” ہمت کرو،مثبت
سوچو،محنت کرنیوالے کبھی نہیں ہارتے ”۔۔اوریہ سب جملے اس شخص کو کہے جاتے ہیں،جس کے گھر میں شاید تین دن سے چولہا ٹھنڈا پڑا
ہو۔ہمارے گاؤں میں ایک بوڑھا شخص کہا کرتا تھا،لوگ شہرجانے کا مشورہ تو دے دیتے ہیں لیکن کرایہ نہیں دیتے ،میں نے زندگی میں اس
ایک جملے سے بڑا سچ کم ہی دیکھا،یہ دنیا اکثرآپ کو راستہ تو دکھاتی ہے ، مگر ہاتھ پکڑ کردوقدم ساتھ نہیں چلتی،لوگ آپ کو سمجھائیں گے کہ
”ہمت نہ ہارو” لیکن کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ تمہارے بچوں کی فیس کہاں سے آئے گی؟کوئی کہے گا ”اللہ بہتر کرے گا” مگراپنی جیب سے سو
روپے نکالنے میں اس کی انگلیاں کانپنے لگتی ہیں،مصیبت میں پھنسے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت فلسفے کی نہیں،سہارے کی ہوتی ہے ،کبھی
کسی پریشان شخص کے پاس بیٹھ کردیکھیے ،اسے لمبی تقریرنہیں چاہیے ہوتی،صرف یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے ،کچھ لوگ ہزارنصیحتوں سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں،کیونکہ وہ مشکل وقت میں خاموشی سے کندھے پرہاتھ رکھ دیتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے ،ہم نے مدد کو بھی لفظوں تک محدود کردیا ہے ۔کسی کے گھر فاقہ ہوتو ہم اسے صبرکا درس دیتے ہیں،کوئی ڈپریشن میں
ہوتو ہم اسے ایمان مضبوط کرنے کا مشورہ دیتے ہیں،کوئی نوجوان بے روزگار ہو تو ہم کہتے ہیں ”کچھ بڑا سوچو”۔حالانکہ بعض اوقات انسان
کو بڑے خواب نہیں،صرف ایک موقع چاہیے ہوتا ہے ،ایک ہاتھ،جو اسے گرنے سے بچالے ،ایک شخص،جو یہ کہہ دے ،فکرنہ کرو،میں
تمہارے ساتھ ہوں،یہ دنیا مشورہ دینے والوں سے بھری ہوئی ہے ، لیکن ساتھ کھڑے ہونے والے لوگ بہت کم ہیں،اسی لیے لوگ آہستہ
آہستہ اپنے دکھ چھپانا سیکھ جاتے ہیں،وہ جانتے ہیں،یہاں اکثرلوگ زخم پرمرہم رکھنے نہیں آتے ،صرف زخم دیکھنے آتے ہیں،بعض لوگ تو
دوسروں کی مصیبت میں بھی اپنی عقل کی نمائش شروع کردیتے ہیں،جیسے سامنے والا انسان نہیں،کوئی ناکام منصوبہ ہو جس پرتجزیہ کیا جارہا
ہو۔میں نے زندگی میں ایک بات سیکھی ہے ،مشورہ اس شخص کو دو،جو مانگے ۔اورمدد اس شخص کی کرو،جو خاموش ہو،کیونکہ خوددار لوگ اکثر
زبان سے مدد نہیں مانگتے ،صرف آنکھوں سے تھک جاتے ہیں ۔اور افسوس یہ ہے ،ہم آنکھوں کی تھکن نہیں پڑھتے ،ہم صرف لفظ سنتے ہیں۔
کبھی غورکیجیے ،زندگی میں ہمیں وہ لوگ یاد نہیں رہتے جنہوں نے ہمیں لمبی لمبی نصیحتیں کی تھیں،یاد وہ لوگ رہتے ہیں،جنہوں نے مشکل
وقت میں خاموشی سے ہاتھ تھاما تھا،وہ دوست،جس نے بنا پوچھے جیب میں کچھ پیسے رکھ دیے ،وہ رشتے دار،جس نے ہجوم میں تماشا بنانے
کے بجائے تنہائی میں سہارا دیا،وہ انسان،جس نے یہ نہیں پوچھا کہ تم اس حال میں پہنچے کیسے ۔؟ صرف اتنا کہا،اب فکر نہ کرو۔دنیا کی سب
سے بڑی نیکی شاید یہی ہے کہ آپ کسی انسان کی مشکل کم کردیں،کیونکہ ہر شخص اپنی زندگی میں ایک ایسی جنگ لڑرہا ہوتا ہے ،جس کا
شورصرف اسے سنائی دیتا ہے ،کچھ لوگ ہنستے ہوئے بھی اندرسے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں،کچھ مضبوظ نظرآنے والے لوگ رات کو خاموشی
سے رو لیتے ہیں۔اورایسے وقت میں ایک چھوٹی سی مدد،ایک سچا ساتھ،کسی انسان کو دوبارہ زندہ کرسکتا ہے ،اس لیے کوشش کریں،لوگوں
کے زخموں پرالفاظ نہیں،آسانیاں رکھیں،اگرکسی کو راستہ دکھا نہیں سکتے تو کم ازکم اس کے پاؤں کی دھول نہ بڑھائیں،اگرکسی کی قسمت بدل
نہیں سکتے تو اس کی تکلیف میں اضافہ بھی نہ کریں۔اوراگرواقعی کسی کے خیرخواہ ہیں تو اسے یہ مت بتائیں کہ زندگی کیسے گزاری جاتی ہے ، بلکہ اس کی زندگی کا بوجھ تھوڑا سا اپنے کندھے پراٹھا لیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے ،ہم نے انسانوں کو سمجھنے کے بجائے جج کرنا سیکھ لیا ہے ،کوئی گرجائے تو ہم فوراً اس کی غلطیاں گنوانا شروع کردیتے ہیں،
حالانکہ ڈوبتے ہوئے انسان کو سبق نہیں،ہاتھ چاہیے ہوتا ہے ،زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ شاید یہی ہے کہ ہرمضبوط نظر آنے والا شخص بھی
اندر سے کہیں نہ کہیں ٹوٹا ہوا ہوتا ہے ،فرق صرف یہ ہے ،کچھ لوگ اپنی شکست چھپا لیتے ہیں اورکچھ لوگوں کی خاموشی چیخ بن جاتی ہے ،میں
نے دیکھا ہے ،غربت انسان کو اتنا نہیں توڑتی جتنا لوگوں کا رویہ توڑدیتا ہے ،بیماری اتنی تکلیف نہیں دیتی جتنی دوسروں کی بے حسی دیتی ہے ۔
اوربعض اوقات ایک جملہ،ایک طنز،ایک بے وقت نصیحت انسان کے اندر برسوں تک زہر کی طرح زندہ رہتی ہے ،اسی لیے لفظ بولنے سے
پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ سامنے والا انسان شاید پہلے ہی زندگی سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہو۔یہ دنیا عجیب جگہ ہے ،یہاں لوگ ڈوبتے
ہوئے انسان کی ویڈیو تو بنا لیتے ہیں مگر ہاتھ نہیں پکڑتے ،یہاں لوگ جنازوں میں روتے بہت ہیں لیکن زندہ انسانوں کے دکھ بانٹنے سے
کتراتے ہیں،حالانکہ اصل انسانیت مرنے والوں پر آنسو بہانا نہیں،زندہ لوگوں کے بوجھ ہلکے کرنا ہے ۔اوریاد رکھیے ،انسان کی اصل
حیثیت اس کے عہدے ،دولت یا شہرت سے نہیں پہچانی جاتی،اصل حیثیت یہ ہے کہ اس کے ہاتھ سے کتنے لوگوں کی مشکل آسان ہوئی،
کیونکہ وقت گزرجاتا ہے ،نام مٹ جاتے ہیں،تصویریں پرانی ہوجاتی ہیں،مگرکسی مجبور انسان کے دل سے نکلی ہوئی دعا،انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے ۔
زندگی کے آخری حساب میں شاید یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے کتنے لوگوں کو مشورے دیے تھے ،یہ پوچھا جائے گا،کتنے گرتے
ہوئے لوگوں کو سہارا دیا تھا،کتنے خالی ہاتھوں میں اپنی استطاعت کے مطابق کچھ رکھا تھا،کتنے پریشان چہروں سے یہ کہا تھا،تم اکیلے نہیں
ہو۔کیونکہ بھوکے انسان کو فلسفہ نہیں،روٹی چاہیے ہوتی ہے ،بیمارانسان کو لیکچر نہیں،دوائی چاہیے ہوتی ہے ۔اور ٹوٹے ہوئے انسان کو نصیحت
نہیں،ایک انسان چاہیے ہوتا ہے ۔یاد رکھیے ،بعض اوقات کسی کی تھوڑی سی مدد اس کی پوری زندگی بچا لیتی ہے ۔اوربعض اوقات ہمارے
دیے ہوئے مشورے ،اس کے زخم مزید گہرے کردیتے ہیں۔اس لیے جب بھی کسی مصیبت زدہ انسان کے پاس جائیں،اپنے لفظ کم اور اپنا
دل ساتھ لے کر جائیں،کیونکہ دنیا میں سب سے تکلیف دہ احساس یہ نہیں کہ انسان غریب ہے ،بے روزگار ہے یا بیمار ہے ۔ سب سے تکلیف دہ احساس یہ ہے کہ انسان مشکل میں ہواوراس کے اردگرد صرف مشورہ دینے والے کھڑے ہوں،مدد کرنے والا کوئی نہ ہو۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں