میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ سولڈ میں کرپشن کا بازار گرم، ملازمین ہراساں

سندھ سولڈ میں کرپشن کا بازار گرم، ملازمین ہراساں

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۸ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

نئے آنے والے افسران نے ملازمین کو ذہنی اذیت دے کر آپریشن متاثر کرنا شروع کر دیا
ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی چھانٹی کا عمل شروع کر دیا گیا ،مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور

سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ملازمین نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گانسو بگوئیوان پرائیویٹ لمیٹڈ نامی چائنیز کمپنی کے جی ایم محمد حسین شیخ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملازمین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ۔
ذرائع کے مطابق آپریشن منیجر ،انچارجز سپر وائزر سمیت پوری ٹیم کو ہراساں کر کے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا، نئے آنے والے افسران اے جی ایم صدام، ایچ آر ذوالفقار، عبدلغفار، شہباز ودیگر نے ملازمین کو
ذہنی اذیت دے کر آپریشن متاثر کرنا شروع کر دیا۔ معتبر ذرائع کے مطابق نئے آنے والے افسران نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ۔ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا روزانہ کی بنیاد پر تین
شفٹوں میں لیبر،فیول ٹرانسپورٹ کی مد میں لاکھوں روپوں کی بے ظابطگیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی بھرتیوں کے ذریعے بھی لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کی آمد
سے قبل ہی چھانٹی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس سے مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگا۔ملازمین کا کہنا ہے کہ جی ایم محمد حسین شیخ نے اپنی نئی آنے والی ٹیم کو مکمل اختیارات دے کر کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
شہباز ،ذوالفقار،عبدالغفار نامی افسران ضلع وسطی یارڈ ورکشاپ میں کھلے عام اسلحے کی نمائش اور ہوائی فائرنگ کر کے ملازمین کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جس سے کافی تشویش پائی جاتی ہے جو
کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ انسانی حقوق کے نمائندگان نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب ملازمین کا معاشی قتل ہونے سے بچایا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں