
این ایف سی ایوارڈ کثیر بنیادوں پر دیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ
شیئر کریں
این ایف سی ایوارڈ، پہلی بار وسائل کی تقسیم میں متعدد معیارات اپنائے گئے
صوبوں کو ٹیکس وصولی کا اختیار دینے سے وصولی میں اضافہ ہوگا، مراد علی شاہ
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادیاتی سرگرمیاں(یو این ایف پی اے) کے ملکی نمائندے ڈاکٹر لوئے شبانے کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران اس بات سے اتفاق کیا کہ نیشنل فنانس کمیشن ( این ایف سی) ایوارڈ کے فارمولے میں آمدنی میں تفاوت، آبادیاتی کارکردگی، انسانی ترقی، ٹیکس شرح اور جنگلات کے رقبے جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔یہ ملاقات پیر کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہوئی، جس میں وزیر صحت و آبادی ڈاکٹر عذار فضل پیچوہو، سیکریٹری وزیراعلی رحیم شیخ اور سیکریٹری آبادی حافظ اللہ عباسی نے شرکت کی، یو این ایف پی اے کی ٹیم میں ڈی جی نسٹ ڈاکٹر اشفاق خان، سربراہ یو این ایف پی اے سندھ مقدر اور پروگرام اینالسٹ رینوکا سوامی نے شرکت کی۔ مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر وزیر اعلیٰ اور یو این ایف پی اے کے وفد نے این ایف سی ایوارڈ کا تجزیہ کیا۔وزیر اعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت پہلی بار وسائل کی تقسیم کے لیے متعدد معیارات اپنائے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ 2008 سے پاکستان پیپلز پارٹی صوبوں کو سیلز ٹیکس کی وصولی کا مکمل اختیار دینے کی حمایت کر رہی ہے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔مراد علی شاہ نے وضاحت کی کہ صوبے عوام کے قریب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ٹیکس وصولی میں زیادہ موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں 90 فیصد ٹیکس وفاقی سطح پر جمع کیا جاتا ہے جبکہ صوبے صرف 10 فیصد ٹیکس خود وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انحصار صوبوں کو وفاقی فنڈز کا محتاج بناتا ہے ۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کو مکمل مالی خودمختاری دینے سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری آئے گی بلکہ وسائل کی زیادہ موثر تقسیم بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔ڈائریکٹر جنرل نسٹ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ڈاکٹر اشفاق خان نے ایک جامع جائزہ پیش کیا جس میں این ایف سی کی تاریخی ارتقا، موجودہ مالیاتی عدم توازن اور محصولات کی تقسیم کے لیے اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایک آئینی ادارہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ٹیکس ریونیو کی تقسیم کا ذمہ دار ہے۔ آئین کے تحت این ایف سی ہر پانچ سال بعد تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ مالیاتی وسائل کی تقسیم کے لیے ایک مناسب طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔پاکستان میں محصولات کی تقسیم کا فریم ورک 1935 کے نیومائر ایوارڈ سے جڑا ہوا ہے جسے آزادی کے بعد 1947 میں ترمیم کے ساتھ اپنایا گیا۔ پہلا باضابطہ این ایف سی ایوارڈ 1951 میں وزیر اعظم لیاقت علی خان نے متعارف کرایا جو ریزمن ایوارڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بعد میں کئی ایوارڈز متعارف کرائے گئے لیکن ابتدائی ایوارڈز (1961، 1964، 1970) کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ 1971 کے بعد ایک نمایاں تبدیلی اس وقت آئی جب آبادی کو وسائل کی تقسیم کے لیے بنیادی عنصر بنایا گیا۔ یہ رجحان ساتویں این ایف سی ایوارڈ تک برقرار رہا جس میں پہلی بار متعدد معیارات کو شامل کیا گیا۔جائزے میں مردم شماری کا تفصیلی تجزیہ شامل تھا جس میں آبادی میں نمایاں اضافے کے رجحانات اور ان کے مالیاتی منصوبہ بندی پر اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ پاکستان کی آبادی 1951میں 3کروڑ 37لاکھ سے بڑھ کر 2023میں 24کروڑ 15لاکھ تک پہنچ گئی جو ایک متوازن اور ترقی پر مبنی این ایف سی فارمولے کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا اقتصادی کارکردگی پر براہ راست اثر پڑا ہے۔